مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ] · حديث 3356
3356 - وَعَنْ حَيِّي بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: «رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ - أَوْ قِيلَ لَهُ -: أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُصَلِّي قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ! قَالَ يَعْلَى: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:» إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " قَالَ يَعْلَى: فَلِأَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَيِيُّ بْنُ يَعْلَى وَلَا يُعْرَفُ.
حی بن یعلیٰ بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سورج طلوع ہونے سے پہلے نما ز ادا کرتے ہوئے دیکھا ' راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے ان سے کہا( راوی کو شک ہے ' شاید یہ الفاظ ہیں: ) ان سے کہا گیا : آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے فرد ہیں' اور سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا کر رہے ہیں؟ تو حضرت یعلیٰ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " بے شک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہو تا ہے '' ۔ حضرت یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر وہ ایسی حالت میں طلوع ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل پیرا ہو (یعنی نماز ادا کر رہے ہو) تو یہ اسے بہتر ہے کہ وہ ایسی حالت میں طلوع ہو کہ تم غفلت کا شکار ہو۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے' اس کی سندمیں ایک راوی حیی بن یعلیٰ ہے' اور وہ معروف نہیں ہے۔
رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ ← حَيِّي بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ
Hadith 3356
