مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ] · حديث 3344
3244 - عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ «أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَكَانُوا يُصَلُّونَهُمَا، قَالَ قَبِيصَةُ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَائِشَةَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ ; لِأَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَجِيرٍ فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ - يَعْنِي بَعْدَهَا - ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَائِشَةَ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ فِي الْكَبِيرِ.
قبیصہ بن ذؤیب بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کے افراد کو یہ بات بتائی تھی ' کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں دو رکعات اد اکی تھیں' تو وہ لوگ ان دو رکعات کو ادا کرتے تھے۔ قبیصہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مغفرت کرے! ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ بہتر جانتے تھے' اصل میں ہوا یہ تھا کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دوپہر کے وقت حاضر ہوئے ' وہ بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالا ت کرتے رہے' اور آپ انہیں شرعی احکام بیان کرتے رہے' یہاں تک کہ آپ نے ظہر کی نماز ادا کر لی اور اس کے بعد کی سنتیں ادا نہیں کیں' پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر ان لوگوں کو مسائل بیان کرتے رہے' یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا' پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے' آپ کو یہ بات یاد آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کے بعد سنتیں ادا نہیں کی تھیں' تو آپ نے وہ دو رکعات عصر کےبعد ادا کر لیں تھیں' ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ بہتر جانتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے' اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے' جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے' امام طبرانی نے اس روایت کا آخری حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے۔
آلَ الزُّبَيْرِ ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ «أَنَّ عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter forbidding prayer after Asr, and other than that] · Hadith 3344
