مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ بَابٌ مِنْهُ جَامِعٌ فِيمَنْ يُحِبُّهُ وَمَنْ يُبْغِضُهُ] · حديث 14737
14737 - وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ وَخَرَجَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ: عَمْرُو بْنُ شَاسٍ الْأَسْلَمِيُّ، فَرَجَعَ وَهُوَ يَذُمُّ عَلِيًّا وَيَشْكُوهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " اخْسَأْ يَا عَمْرُو، هَلْ رَأَيْتَ مِنْ عَلِيٍّ جَوْرًا فِي حُكْمِهِ أَوْ أَثَرَةً فِي قَسْمِهِ؟ ". قَالَ: اللَّهُمَّ لَا. قَالَ: " فَعَلَامَ تَقُولُ الَّذِي بَلَغَنِي؟ ". قَالَ: بُغْضَهُ، لَا أَمْلِكُ. قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ أَبْغَضَهُ فَقَدْ أَبْغَضَنِي، وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ، وَمَنْ أَحَبَّهُ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ اللَّهَ تَعَالَى» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رِجَالٌ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفِهِمْ.
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا ان کے ساتھ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی روانہ ہوا جس کا نام عمرو بن شاس اسلمی تھا جب وہ شخص واپس آیا تو وہ شخص حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذمت کر رہا تھا اور ان کی شکایت کر رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پیغا م بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے عمرو!تم پرے ہو جاؤ! کیا تم نے علی کو فیصلہ دیتے ہوئے کوئی زیادتی کرتے ہوئے دیکھا ہے یا تقسیم کرتے ہوئے کوئی ترجیحی سلوک کرتے ہوئے دیکھا ہے اس شخص نے جواب دیا: الله جانتا ہےجی نہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کس بنیاد پر وہ باتیں کہہ رہے ہو جو مجھ تک پہنچی ہیں اس شخص نے کہا: ان سے بغض رکھنے کی وجہ سے جس کا میں مالک نہیں ہوں راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم اور غصے میں آ گئے‘ یہاں تک کہ غصے کے اثرات آپ ان کے چہرے پر محسوسں ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اس سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے‘ اور جو شخص مجھ سے بغض رکھتا ہے‘ وہ اللہ تعالیٰ سے بغض رکھتا ہے‘ اور جو شخص اس سے محبت رکھتا ہے‘ وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ الله تعالیٰ سے محبت رکھتا ہ‘‘۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسے رجال ہیں جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے۔
أَبِي رَافِعٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › A door by which one collects with those who love and who hate him] · Hadith 14737
