مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِي مَنْ يُحِبُّهُ أَيْضًا وَيَبْغَضُهُ أَوْ يَسُبُّهُ] · حديث 14725
14725 - وَفِي رِوَايَةٍ: «أَهْدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَائِرًا بَيْنَ رَغِيفَيْنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ ". فَجَاءَتْهُ بِالطَّائِرِ». قُلْتُ: عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَرَدَّهُ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَذِنَ لَهُ». وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ حَمَّادُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِ الْأَوْسَطِ أَحْمَدُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ أَبِي طَيْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :سیّدہ اُم ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو ایک پرندہ تحفے کے طور پر دیا جس کے ساتھ دو روٹیاں بھی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم تشریف لائے‘ تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے‘ تو اس پرندے کا گوشت آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام ابو یعلیٰ نے بھی اختصار کے سات نقل کی ہے‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے انہیں واپس کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے انہیں واپس کر دیا پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے‘ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ کبیر کی سند میں ایک راوی حماد بن مختار ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ ر جال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں اوسط کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی احمد بن عیاض بن ابو طیبہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں امام ابو یعلیٰ کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے۔
وَفِي رِوَايَةٍ: «أَهْدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ إِلَى النَّبِيِّ طَائِرًا بَيْنَ رَغِيفَيْنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on the one who also loves and hates or reviles him] · Hadith 14725
