مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا أَوْصَى بِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14665
14665 - «وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَاجْتَمَعَ لَهُ ثَلَاثُونَ رَجُلًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا. قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: " مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي؟ ". فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ يُسِمِّهِ شَرِيكٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا مَنْ يَقُومُ بِهَذَا؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِآخَرَ: فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي عَلَامَةِ النُّبُوَّةِ فِي آيَتِهِ فِي الطَّعَامِ.
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’اور تم اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا تیس افراد آپ کے پاس جمع ہوئے ان لوگوں نے کھایا پیا راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے ان لوگوں سے فرمایا: کون شخص میرے قرض اور میرے وعدوں کے حوالے سے میرا ساتھ دے گا اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا اور میرے اہل خانہ کے بارے میں میرا خلیفہ ہو گا تو ایک نے کہا: شریک نامی راوی نے اس کا نام بیان نہیں کیا یا رسول اللہ! آپ تو سمندر ہیں کون ایسا کر سکتا ہے؟ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ یہ حدیث کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اپنے اہل بیت کے سامنے یہ پیش رکھی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : میں ایسا کروں گا۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند عمدہ ہے۔اس سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق نبوت کی علامات سے متعلق باب میں کھانے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ان کے معجزات سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں۔
عَلِيٍّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on what He commanded, may God be pleased with him] · Hadith 14665
