مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابُ مَنْزِلَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14653
14653 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ: " إِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ أُقِيمَ أَوْ تُقِيمَ ". فَخَلَّفَهُ. فَقَالَ نَاسٌ: مَا خَلَّفَهُ إِلَّا شَيْءٌ كَرِهَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَتَضَاحَكَ ثُمَّ قَالَ: " يَا عَلِيُّ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا: مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے جب جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ کیا‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا:’’یہ بات ضروری ہے کہ یا میں مقیم ہو جاؤں یا تم مقیم رہو‘‘۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا کچھ لوگوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس لئے پیچھے چھوڑا ہے کہ کوئی ایسی بات ہوئی ہو گی جو آپ کو ناپسند ہو گی جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے پاس آئے اور اس بارے میں اطلاع دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ہنس پڑے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اے علی! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سےتھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے‘ ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی میمون ابو عبداللہ بصری ہے‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [The door of his house, may God be pleased with him] · Hadith 14653
