مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَوَفَاتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14545
14545 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَ: خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ، فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لِابْنِهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهَ عَنْهُ. قَالَ: وَطَلْحَةُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَلَمْ يُجِبْهَا، فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ دِرْعِهَا، فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا فَقَالَتْ: أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأَرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ، فَقَامَ وَلَوَى شِقَّيَ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ، فَقَالَ طَلْحَةُ وَمَعَهُ أُمُّهُ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ: لَوْ رَفَّهْتَ النَّاسَ عَنْ هَذَا فَقَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا يَكْرَهُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
عبداللہ بن ابو رافع‘ اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ صعبہ بنت حضرمی نکلیں تو ہم نے اس خاتون کو اپنے بیٹے طلحہ بن عبید اللہ سے یہ کہتے ہوئے سنا: حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے تم اس بارے میں بات چیت کرو تاکہ انہیں سہولت مل جائے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت اپنے سر کا ایک حصہ دھو چکے تھے۔ انہوں نے اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا‘ تواس خاتون نے اپناہاتھ اپنی آستین میں داخل کیا اور اپنی چھاتی نکال کر یہ کہا میں نے تمہارے حمل او رتمہیں دودھ پلانے کا جو کام کیا ہے اس کے حوالے سے میں واسطہ دے کر تمہیں‘ یہ کہتی ہوں کہ تم ایسا ضرور کرو‘ تو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی وقت کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے سر کے اس طرف والے بالوں کو موڑ ااور انہیں گرہ لگا دی جودھلے ہوئے تھے پھر وہ وہاں سے نکلے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے‘ جو اپنے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ان کے ساتھ ان کی والدہ تھیں اور ساتھ عبداللہ بن رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ تھیں حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اگر آپ ان صاحب سے لوگوں کو پرے کرنے کی کوشش کریں تو یہ مناسب ہو گا کیونکہ ان کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے‘ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس حوالے سے کسی ایسی چیز کو پسند نہیں کرتا جسے تم ناپسند کرتے ہو۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ، فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لِابْنِهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: ← أُمِّهِ2، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter about what was of his command and death, may God be pleased with him] · Hadith 14545
