مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ بَابُ تَزْوِيجِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14509
14509 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَبْرِ ابْنَتِهِ الثَّانِيَةِ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ: " أَلَا أَبَا أَيِّمٍ؟ أَلَا أَخَا أَيِّمٍ يُزَوَّجُهَا عُثْمَانَ؟ فَلَوْ كُنَّ عَشْرًا لَزَوَّجْتُهُنَّ عُثْمَانَ، وَمَا زَوَّجْتُهُ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ السَّمَاءِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دوسری صاحبزادی کی قبر کے پاس ٹھہرے جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کسی بیوہ یا طلاق یافتہ کا کوئی باپ یا بھائی نہیں ہے‘ جواس بیوہ کی شادی عثمان سے کروا دے اگر یہ (یعنی میری بیٹیاں) دس ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کی شادی کروا دیتا اور میں نے (اپنی بیٹیوں کی) اس کے ساتھ شادی صرف آسمان سے آنے والی وحی کی وجہ سے کروانی تھی‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمٰن بن ابو زناد ہے‘ اور وہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی‘ توثیق کی گئی ہے۔
«وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى قَبْرِ ابْنَتِهِ الثَّانِيَةِ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › Chapter on his marriage, may God be pleased with him] · Hadith 14509
