مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ بَابُ صِفَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14497
14497 - وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ، فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ، فَقَضَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، بِوَجْهِهِ نُكْتَاتُ جُدَرِيٍّ، وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ .. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِيهِ أَبُو الْمِقْدَامِ: هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حسن بن ابو الحسن بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو میرے سامنے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے‘ جواپنی چادر کےساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس دو پانی بھرنے والے افراد آئے ان دونوں نے اپنا مقدمہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے پیش کیا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ دیا پھر میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا میں نے ان کا بغور جائزہ لیا تو وہ ایک خوبصورت چہرے کے مالک شخص تھے۔ ان کے چہرے پر جدری کے کچھ داغ تھے اور ان کے بالوں نے ان کی کلائیوں کو بھرا ہوا تھا۔ یہ روایت عبدالله نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابو مقدام بن ہشام ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
دخلت المسجد فإذا ← الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › Chapter on his description, may God be pleased with him] · Hadith 14497
