مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابُ وَفَاةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14473
14473 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: ذَاكَ الْأَوَّاهُ عِنْدَ كُلِّ خَيْرٍ يُبْتَغَى. قَالَ: تُوُفِّيَ عُمَرُ فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب وصال ہوا تو وہ کہاں ہوں گے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جنت میں‘ انہوں نے دریافت کیا: جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا‘ تو وہ کہاں ہوں گے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: وہ ایک مہربان (یا رقیق القلب)شخص تھے‘ جو ہر بھلائی کے پاس موجود ہوتے تھے‘ جس (بھلائی) کو تلاش کیا جاتا تھا (یعنی اس بھلائی کو کرنے کی کوشش کی جاتی تھی) انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے‘ وہ کہاں ہوں گے؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: جب نیک لوگوں کا ذکر ہو گا‘ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بطور خاص ذکر ہو گا۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند حسن ہے۔
الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بِعُمَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. ← «إِذَا ← تُوُفِّيَ عُمَرُ فَأَيْنَ هُوَ؟ ← «ذَاكَ الْأَوَّاهُ عِنْدَ كُلِّ خَيْرٍ يَبْتَغِي». ← تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ فَأَيْنَ هُوَ؟ ← فِي الْجَنَّةِ ← يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ فَأَيْنَ هُوَ؟ ← وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter of the death of Omar, may God be pleased with him] · Hadith 14473
