مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابُ خَوْفِهِ عَلَى نَفْسِهِ] · حديث 14449
14449 - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: «أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا أُمَّهْ، قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي مَالِي، أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، فَانْفِقْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ ". فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَلَقِيَ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا عُمَرُ فَقَالَ: بِاللَّهِ، مِنْهُمْ أَنَا؟ فَقَالَتْ: لَا. وَلَا أُبَرِّئُ أَحَدًا بَعْدَكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے اور بولے: اے امی جان مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرا مال مجھے ہلاکت کا شکار کر دے گا کیونکہ قریش میں سے سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے‘ تو سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم اس کو خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے:’’میرے ساتھیوں میں سے ایک ایسا شخص بھی ہو گا کہ جب میں اس سے جدا ہو جاؤں گا‘ تو پھر اس کے بعد وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گا‘‘۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے تشریف لے گئے۔ ان کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی‘ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہ بات بتائی جو سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کی تھی‘ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے اور بولے: میں الله کی قسم ! دے کر یہ پوچھتا ہوں کہ کیا میں ان افراد میں سے ایک ہوؤں گا ؟ سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: جی نہیں! البتہ میں آپ کے بعد کسی کو بری قرار نہیں دوں گی۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔
أُمِّ سَلَمَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [The door of his fear for himself] · Hadith 14449
