مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِي عِلْمِهِ] · حديث 14437
14437 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي أُعْطِيتُ عُسًّا مَمْلُوءًا لَبَنًا، فَشَرِبْتُ حَتَّى تَمَلَّأْتُ، حَتَّى رَأَيْتُهُ يَجْرِي فِي عُرُوقِي بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَعْطَيْتُهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ". فَأَوَّلُوهَا قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا عِلْمٌ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ فَمَلَأَكَ مِنْهُ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَعْطَيْتَهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ. فَقَالَ: " أَصَبْتُمْ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک بڑا پیالہ دیا گیا جو دودھ سے بھرا ہوا تھا میں نے اسے پیا یہاں تک کہ میں سیر ہو گیا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے اثرات مجھے اپنی جلد اور گوشت کے درمیان رگوں کے اندر چلتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں جو دودھ بچا تھا وہ میں نے عمر بن خطاب کو دے دیا تم لوگ اس کی تاویل بیان کرو لوگوں نے عرض کی :اے اللہ کے نبی!اس سے مراد و ہ علم ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا اور آپ اس سے سیر ہو گئے اور اس میں سے کچھ بچ گیا‘ تو آپ ؤنے وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے ٹھیک بیان کیا ہے‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں یہ روایت اس سیاق کے بغیر منقول ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح‘‘ کے ر جال ہیں۔
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter in his knowledge] · Hadith 14437
