مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِي إِسْلَامِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14413
14413 - وَعَنْ أَسْلَمَ - مَوْلَى عُمَرَ - قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُعْلِمَكُمْ أَوَّلَ إِسْلَامِي؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: كُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فِي بَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ إِذْ رَآنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: أَيْنَ تَذْهَبُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ قُلْتُ: أُرِيدُ هَذَا الرَّجُلَ. قَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ دَخَلَ هَذَا الْأَمْرُ فِي مَنْزِلِكَ وَأَنْتَ تَقُولُ هَذَا؟ قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتَكَ قَدْ ذَهَبَتْ إِلَيْهِ. قَالَ: فَرَجَعْتُ مُغْضِبًا حَتَّى قَرَعْتُ عَلَيْهَا الْبَابَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَسْلَمَ بَعْضُ مَنْ لَا شَيْءَ لَهُ ضَمَّ الرَّجُلَ وَالرَّجُلَيْنِ إِلَى الرَّجُلِ يُنْفِقُ عَلَيْهِ. قَالَ: وَكَانَ ضَمَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى زَوْجِ أُخْتِي. قَالَ: فَقَرَعْتُ الْبَابَ، فَقِيلَ لِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. وَقَدْ كَانُوا يَقْرَءُونَ كِتَابًا فِي أَيْدِيهِمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتِي قَامُوا حَتَّى اخْتَبَئُوا فِي مَكَانٍ وَتَرَكُوا الْكِتَابَ، فَلَمَّا فَتَحَتْ لِي أُخْتِي الْبَابَ قُلْتُ: أَيَا عَدُوَّةَ نَفْسِهَا صَبَوْتِ؟ قَالَ: وَأَرْفَعُ شَيْئًا فَأَضْرِبُ بِهِ عَلَى رَأْسِهَا، فَبَكَتِ الْمَرْأَةُ، وَقَالَتْ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اصْنَعْ مَا كُنْتَ صَانِعًا فَقَدْ أَسْلَمْتُ، فَذَهَبَتْ وَجَلَسَتْ عَلَى السَّرِيرِ، فَإِذَا بِصَحِيفَةٍ وَسَطَ الْبَابِ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّحِيفَةُ هَاهُنَا؟ فَقَالَتْ لِي: دَعْنَا عَنْكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ; فَإِنَّكَ لَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَا تَتَطَهَّرُ، وَهَذَا لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ. فَمَا زِلْتُ بِهَا حَتَّى أَعْطَتْنِيهَا فَإِذَا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمِنَ الرَّحِيمِ قَالَ: فَلَمَّا قَرَأْتُ الرَّحْمِنَ الرَّحِيمَ تَذَكَّرْتُ مِنْ أَيْنَ اشْتُقَّ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي فَقَرَأْتُ: {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [الحديد: 1] حَتَّى بَلَغَ: {آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ} [الحديد: 7] قَالَ: قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَخَرَجَ الْقَوْمُ مُتَبَادِرِينَ، فَكَبَّرُوا وَاسْتَبْشَرُوا بِذَلِكَ، ثُمَّ قَالُوا لِي: أَبْشِرْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ: " «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ» ". وَإِنَّا نَرْجُو أَنْ تَكُونَ دَعْوَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَكَ. فَقُلْتُ: دُلُّونِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيْنَ هُوَ؟. فَلَمَّا عَرَفُوا الصِّدْقَ، دَلُّونِي عَلَيْهِ فِي الْمَنْزِلِ الَّذِي هُوَ فِيهِ. فَجِئْتُ حَتَّى قَرَعْتُ الْبَابَ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَقَدْ عَلِمُوا شِدَّتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي، فَمَا اجْتَرَأَ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يَفْتَحَ لِي حَتَّى قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «افْتَحُوا لَهُ ; فَإِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يَهْدِهِ» ". قَالَ: فَفُتِحَ لِي الْبَابُ، فَأَخَذَ رَجُلَانِ بِعَضُدِي حَتَّى دَنَوْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «أَرْسِلُوهُ» ". فَأَرْسَلُونِي فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، «فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ قَمِيصِي، ثُمَّ قَالَ: " أَسْلِمْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، اللَّهُمَّ اهْدِهِ ". فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ». قَالَ: فَكَبَّرَ الْمُسْلِمُونَ تَكْبِيرَةً سُمِعَتْ فِي طُرُقِ مَكَّةَ. وَقَدْ كَانُوا سَبْعِينَ قَبْلَ ذَلِكَ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ فَعَلِمُوا بِهِ النَّاسُ يَضْرِبُونَهُ وَيَضْرِبُهُمْ. قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَجُلٍ فَقَرَعْتُ عَلَيْهِ الْبَابَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. فَخَرَجَ إِلَيَّ، قُلْتُ لَهُ: أَعَلِمْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ قَالَ: أَوَقَدْ فَعَلْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ. قَالَ: وَدَخَلَ الْبَيْتَ فَأَجَافَ الْبَابَ دُونِي. قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَى آخَرَ مِنْ قُرَيْشٍ، فَنَادَيْتُهُ فَخَرَجَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَعَلِمْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ قَالَ: وَفَعَلْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: لَا تَفْعَلْ، وَدَخَلَ الْبَيْتَ، وَأَجَافَ الْبَابَ دُونِي. فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِشَيْءٍ. قَالَ: فَإِذَا أَنَا لَا أُضْرَبُ وَلَا يُقَالُ لِي شَيْءٌ. فَقَالَ الرَّجُلُ: أَتُحِبُّ أَنْ يُعْلَمَ إِسْلَامُكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: إِذَا جَلَسَ النَّاسُ فِي الْحِجْرِ فَائْتِ فُلَانًا فَقُلْ لَهُ فِيمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ: أَشْعَرْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ فَإِنَّهُ قَلَّمَا يَكْتُمُ الشَّيْءَ، فَجِئْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْحِجْرِ، فَقُلْتُ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ: أَشْعَرْتَ أَنِّي قَدْ صَبَوْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَفَعَلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: أَلَا إِنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَا. قَالَ: فَثَارَ إِلَيَّ أُولَئِكَ النَّاسُ، فَمَا زَالُوا يَضْرِبُونِي وَأَضْرِبُهُمْ حَتَّى أَتَى خَالِي، فَقِيلَ لَهُ: إَنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَا، فَقَامَ عَلَى الْحَجَرِ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: أَلَا إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ ابْنَ أُخْتِي فَلَا يَمَسُّهُ أَحَدٌ. قَالَ: فَانْكَشَفُوا عَنِّي، فَكُنْتُ لَا أَشَاءُ أَنْ أَرَى أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُضْرَبُ إِلَّا رَأَيْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا بِشَيْءٍ إِنَّ النَّاسَ يُضْرَبُونَ وَلَا أُضْرَبُ، وَلَا يُقَالُ لِي شَيْءٌ. فَلَمَّا جَلَسَ النَّاسُ فِي الْحِجْرِ جِئْتُ إِلَى خَالِي، فَقُلْتُ: اسْمَعْ، جِوَارُكَ عَلَيْكَ رَدٌّ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَأَبَيْتُ، فَمَا زِلْتُ أَضْرِبُ وَأُضْرَبُ حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ .. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
اسلم جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام ہیں‘ وہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں یہ بتاؤں کہ میں نے اسلام کیسے قبول کیا تھا؟ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: جی ہاں تو انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ سلم کی مخالفت میں سب سے زیادہ سخت تھا ایک شدید گرم دن میں‘ میں مکہ کے کسی راستے سے گزر رہا تھا قریش سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے مجھے دیکھا‘ تو دریافت کیا: اے ابن خطاب! تم کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا: میں ان صاحب کی طرف جا رہا ہوں۔ اس نے کہا: اے ابن خطاب یہ معاملہ تمہارے گھر میں داخل ہو چکا ہے‘ اور تم یہ بات کر رہے ہو میں نے دریافت کیا: کیا ہوا ہے؟ اس نے بتایا تمہاری بہن ان صاحب کی طرف جا چکی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں غصے کے عالم میں واپس آیا اور میں نے اپنی بہن کا دروازہ کھٹکھٹایا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی ایسا شخص اسلام قبول کرتا تھا کہ جس کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی‘ تو آپ ایسے ایک یا دو افراد کے ذمہ داری کسی اور شخص کو سونپ دیتے تھے جو اس پر خرچ کرتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں سے دو افراد میرے بہنوئی کے حوالے کیے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دریافت کیا گیا کون ہے؟ میں نے جواب دیا: میں ہوں‘ عمر بن خطاب وہ لوگ اس وقت ایک تحریر پڑھ رہے تھے‘ جو ان کے سامنے موجود تھی‘ جب ان لوگوں نے میری آواز سنی تو اٹھ کر مکان میں کسی جگہ چھپ گئے اور اس تحریر کو وہیں چھوڑ گئے جب میری بہن نے میرے لئے دروازہ کھولا تو میں نے کہا: اے اپنی جان کی دشمن کیا تم بے دین ہو گئی ہو؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں نے کوئی چیز اٹھائی اور وہ اپنی بہن کے سر پر مار دی‘ میری بہن رونے لگی‘ اس نے مجھ سے کہا: اے ابن خطاب! تم نے جو کرنا ہے کر لو‘ میں اسلام قبول کر چکی ہوں‘ پھر میں آگے آیا اور پلنگ پر بیٹھ گیا‘ اور وہاں دروازے کے درمیان میں ایک صحیفہ موجود تھا‘ میں نے دریافت کیا: یہ صحیفہ یہاں کس لئے موجود ہے؟ تو میری بہن نے مجھے سے کہا: اے ابن خطاب! تم اپنے آپ کو ہم سے دور ہی رکھو کیونکہ تم نے جنابت کے بعد غسل نہیں کیا ہے‘ اور پاکیزگی حاصل نہیں کی ہے‘ اور اسے صرف پا کیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں‘ تو میں مسلسل اس کے ساتھ تقرار کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے وہ تحریر مجھے دی تو اس میں یہ تحریر تھا: ’’الله تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے‘‘۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: جب میں لفظ الرحمٰن الرحیم پڑھا تو میں نے یہ سوچا کہ یہ لفظ کہاں سے آیا ہے؟ پھر میں واپس اپنے خیال میں آیا اور میں نے پڑھنا شروع کیا:’’جو کچھ بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے‘ وہ الله تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہے‘ اور وہ غلبے والا حکمت والا ہے‘‘۔ یہاں تک کہ میں اس مقام تک پہنچا۔ ’’تم لوگ الله اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس چیز میں سے خرچ کرو کہ جس چیز کے بارے میں اس نے تمہیں نائب بنایا ہے۔۔۔۔‘‘ ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و الہ سلم) اللہ کے رسول ہیں‘ تو وہ لوگ تیزی سے نکل کر باہر آئے انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور اس بات پر خوش ہوئے پھر انہوں نے مجھ سے کہا: اے عمر بن خطاب تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ پیر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا:’’اے اللہ! تو دو افراد یعنی عمر بن خطاب اور ابو جہل بن ہشام میں سے اپنے نزدیک محبوب بندے کے ذریعے دین کو غلبہ عطا فرما‘‘۔ تو ہمیں یہ امید ہے کہ یہ اللہ کے رسول کی آپ کے لیے کی گئی دعا کا نتیجہ ہے میں نے کہا: تم لوگ مجھے بتاؤ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و الہ سلم کہاں ہیں؟ جب ان لوگوں کو سچائی کا علم ہو گیا‘ تو انہوں نے میری رہنمائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کی کہ آپ کون سے گھر میں قیام پذیر ہیں‘ میں آیا‘ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا‘ لوگوں نے دریافت کیا: کون ہے؟ میں نے جواب دیا :عمر بن خطاب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ سلم کے بارے میں میری شدید مخالفت سے واقف تھے۔ انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا پتہ نہیں تھا ان میں سے کسی شخص کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ دروازہ میرے لئے کھول دے‘ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اس کےلئے دروازہ کھول دو‘ اگر الله تعالیٰ نے اس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیا ہوا تو وہ اسے ہدایت دیدے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میرے لئے دروازہ کھولا گیا‘ دو افراد نے مجھے دونوں پہلوؤں سے پکڑ لیا یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ سلم نے ان لوگوں سے فرمایا: اسے چھوڑ دو ان لوگوں نے مجھے چھوڑ دیا‘ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ سلم نے میری قمیص کا گریبان پکڑا اور پھر ارشاد فرمایا: اے عمر بن خطاب! تم اسلام قبول کر لو‘ اے اللہ! اسے ہدایت نصیب فرما تو میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: تو مسلمانوں نے اتنی بلند آواز میں نعرہ تکبیر لگایا کہ مکہ کے راستوں میں وہ آواز سنائی دی‘ اس سے پہلے ان لوگوں کی تعداد سترتھی اور جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تھا‘ تو لوگ اس کی پٹائی کرتے تھے اور وہ ان لوگوں کو مارتا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک شخص کے پاس آیا‘ میں نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا‘ اس نے دریافت کیا: کون ہے؟ نے جواب دیا :عمر بن خطاب ‘ وہ نکل کر میرے پاس آیا‘ میں نے اس سے کہا: کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے دین تبدیل کر لیا ہے؟ اس نے دریافت کیا : کیا تم نے ایسا کر لیا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے جواب دیا: تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا‘ پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گیا‘ اور اس نے دروازہ بند کر لیا‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: پھر میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کے پاس گیا۔ میں نے اسے بلند آواز میں پکارا وہ نکل کر باہر آیا‘ میں نے اس سے دریافت کیا: کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے دین تبدیل کر لیا ہے؟ اس نے دریافت کیا : کیا تم نے ایسا کر لیا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: تمہیں ایسا نہیں کرتا چائیے تھا‘ پھر وہ گھر میں داخل ہو گیا‘ اور اس نے دروازہ بند کر لیا‘ میں نے کہا: یہ کیا بات ہوئی‘ نہ مجھے کوئی مارتا ہے‘ اور نہ ہی مجھے کچھ کہا جاتا ہے‘ ایک شخص نے کہا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارے اسلام قبول کرنے کے بارے میں سب کو پتہ چل جائے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: جب لوگ حطیم میں بیٹھے ہوئے ہوں تو تم فلاں شخص کے پاس جانا اور اس سے یہ کہنا کہ ہماری آپس کی بات ہے کہ کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے دین تبدیل کر لیا‘ کیونکہ وہ شخص کوئی بات چھپا کے نہیں رکھ سکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں اس شخص کے پاس گیا‘ لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے اردگرد اکٹھے تھے‘ میں نے اس شخص سے سرگوشی میں بات کی‘ کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے دین تبدیل کر لیا ہے؟ اس نے کہا: کیا تم نے ایسا کر لیا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! تواس نے بلند آواز میں پکار کر کہا‘ خبردار! عمرنے دین تبدیل کر لیا ہے‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: تو وہ لوگ مجھ پر حملہ آور ہو گئے وہ مسلسل مجھے مارتے رہے‘ اور میں انہیں مارتا رہا یہاں تک کہ میرے ماموں آ گئے۔ ان سے کہا گیا کہ عمر نے دین تبدیل کر لیا ہے‘ تو وہ خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہوئے اور انہوں نے بلند آواز میں پکار کر کہا خبردار میں اپنے بھانجے کو پناہ دیتا ہوں کوئی شخص اسے ہاتھ بھی نہیں لگائےگا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : تو وہ لوگ میرے پاس سے دور ہو گئے۔ حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے یہ دیکھا کہ ہر مسلمان کی پٹائی کی جاتی ہے میں نے سوچا یہ کیا بات ہوئی‘ لوگوں کی پٹائی ہوتی ہے اور مجھے نہیں کوئی مارتا اور مجھے کچھ نہیں کہا جاتا‘ جب لوگ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو میں اپنے ماموں کے پاس آیا اور میں نے کہا: میری بات سن لیں! آپ کی دی ہوئی پناہ میں آپ کو واپس کرتا ہوں‘ انہوں نے کہا: تم ایسانہ کر ولیکن میں نے ان کی یہ بات نہیں مانی اس کے بعد میری بھی پٹائی ہوتی رہی اور میں بھی مارتا رہا یہاں تک کہ الله تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَتُحِبُّونَ ← أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on his Islam, may God be pleased with him] · Hadith 14413
