مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ وَغَيْرِهِمْ] · حديث 14377
14377 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْوَافِ وَبِلَالٌ مَعَهُ، فَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: " يَا بِلَالُ، ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ". فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ. ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: " ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ". فَدَخَلَ فَجَلَسَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ. ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: " ائْذَنْ لَهُ يَا بِلَالُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ ". فَدَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ قُبَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، وَكَشَفَ عَنْ فَخِذَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسواف کے مقام پر ٹھہرے آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم اسے اجازت دو اور تم اسے جنت کی خوشخبری دو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر آئے اور وه نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف آ کے بیٹھ گئے۔ انہوں نے بھی ٹانگیں کنویں میں لٹکالیں اور رانوں سے کپڑے ہٹا لیا پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے انہوں نے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بلال اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے وہ اندر آئے اور انہوں نے بھی کنویں میں ٹانگیں لٹکالیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور اسے یہ بتانا کہ اسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا ہو گا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مد مقابل بیٹھ گئے۔ انہوں نے بھی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکالیں اور زانوں سے کپڑا ہٹا لیا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد علی بن سعید کا معاملہ مختلف ہے‘ اور وہ حسن الحدیث ہے۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on the merits of Abu Bakr and Omar and others from the caliphs and others] · Hadith 14377
