مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ وَغَيْرِهِمْ] · حديث 14353
14353 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَسَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَابْنَ مَسْعُودٍ، إِلَى الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ الْحَوَارِيِّينَ ". فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَا تَبْعَثُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَإِنَّهُمَا أَبْلَغُ؟ قَالَ: " لَا غِنًى بِي عَنْهُمَا، إِنَّمَا مَنْزِلَتُهُمَا مِنَ الدِّينِ مَنْزِلَةُ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں معاذ بن جبل کو سالم مولیٰ ابو حذیفہ کو ابی بن کعب کو اور عبدالله بن مسعود کو مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ایک صاحب نے عرض کی: آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیوں نہیں بھیجتے؟ کیونکہ وہ دونوں زیادہ اچھے طریقے سے تبلیغ کر سکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے بغیر گزارہ نہیں ہو گا کیونکہ دین میں ان دونوں کی حیثیت وہی ہے‘ جو سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔
عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on the merits of Abu Bakr and Omar and others from the caliphs and others] · Hadith 14353
