مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ [بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ وَمَنْ قَرَأَهُ] · حديث 11642
11642 - وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: «بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدًا إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَمِيرًا مِنْهُمْ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ، فَمَكَثَ أَيَّامًا لَمْ يَسِرْ، فَلَقِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْهُمْ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ، مَالَكَ؟ أَمَا انْطَلَقْتَ؟ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِيرُنَا يَشْتَكِي رِجْلَهُ. فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَفَثَ عَلَيْهِ "بِسْمِ اللَّهِ، وَبِاللَّهِ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا فِيهَا " سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ شَيْخٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُؤَمِّرُهُ عَلَيْنَا وَهُوَ أَصْغَرُنَا؟ فَذَكَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِرَاءَتَهُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ الشَّيْخُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَتَوَسَّدَ فَلَا أَقُومَ بِهِ لَتَعَلَّمْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " تَعَلَّمْهُ، فَإِنَّمَا مَثَلُ الْقُرْآنِ كَجِرَابٍ مَلَأْتَهُ مِسْكًا ثُمَّ رَبَطْتَ عَلَى فِيهِ فَإِنْ فَتَحْتَ فَاحَ عَلَيْهِ رِيحُ الْمِسْكِ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ كَانَ مِسْكًا مَوْضُوعًا، كَذَلِكَ مَثَلُ الْقُرْآنِ إِذَا قَرَأْتَهُ أَوَكَانَ فِي صَدْرِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: فِي أَحَادِيثِ ابْنِهِ عَنْهُ مَنَاكِيرُ. قُلْتُ: لَيْسَ هَذَا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِهِ عَنْهُ.
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک وفد یمن کی طرف بھیجا اور ان میں سے ایک شخص کو ان کا امیر بناد یا جو عمر میں ان لوگوں سے کم تھا، کچھ دن گزر گئے لیکن وہ لوگ روانی نہیں ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ان میں سے ایک شخص سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! کیا وجہ ہے تم لوگ گئے کیوں نہیں؟ اس نے عرض کی: یارسول اللہ ہمارے امیر کی ٹانگ میں تکلیف کی شکایت تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس امیر کے پاس آئے، اس کو دم کیا اور یہ پڑھا:”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس میں موجود ہے ‘‘۔ یہ کلمات آپ نے سات مرتبہ پڑھے تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا ، اس عمر رسیدہ شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ! کیا آپ اسے ہمارا امیر مقرر کر رہے ہیں؟ جبکہ یہ عمر میں ہم سب سے کم ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قرآن کے عالم ہونے کا ذکر کیا تو اس عمر رسیدہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ خوف نہ ہوتا کہ میں اس کو سیکھنے کے باوجود سویا رہوں گا ، اور اس کو قیام کی حالت میں اس کی تلاوت نہیں کر پاؤں گا تو میں بھی اس کو سیکھ لیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ’’ تم اس کو سیکھو! کیونکہ قرآن کی مثال اس مشکیزے کی مانند ہے جس میں تم مشک بھر لیتے ہو اور اس کے منہ کو بند کر دیتے ہو اگر تم اس کو کھولو گے تو مشک کی خوشبو پھیلے گی اور اگر تم اسے چھوڑ دو گے تو مشک رکھی ہوئی تو ہے قرآن کی مثال بھی اسی طرح ہے کہ جب تم اسے پڑھو یا وہ تمہارے سینے موجود ہو (تو دونوں صورتیں ہی بہتر ہیں )‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیٰ بن سلمہ بن کہیل ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے وہ کہتے ہیں: اس کے بیٹے نے اس سے جو احادیث نقل کی ہیں وہ منکر ہیں ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں :)میں یہ کہتا ہوں : یہ ان روایات میں سے ایک نہیں ہے جو اس کے بیٹے نے اس سے نقل کی ہیں۔
«بُعِثَ النَّبِيُّ ← عُثْمَانَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › [Chapter of it on the merit of the Qur’an and whoever recites it] · Hadith 11642
