مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255]. · حديث 10876
10876 - وَعَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ الْخَزْرَجِيِّ - «وَلَهُ بِئْرٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهَا: بِئْرُ بُضَاعَةَ قَدْ بَصَقَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهِيَ يُبَشَّرُ بِهَا وَيُتَيَمَّنُ بِهَا - قَالَ: فَلَمَّا قَطَعَ أَبُو أُسِيدٍ تَمْرَ حَائِطِهِ جَعَلَهُ فِي غُرْفَةٍ، فَكَانَتِ الْغُولُ تُخَالِفُهُ إِلَى مَشْرُبَتِهِ فَتَسْرِقُ تَمْرَهُ وَتُفْسِدُهُ عَلَيْهِ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " تِلْكَ الْغُولُ يَا أَبَا أُسَيْدٍ، فَاسْتَمِعْ عَلَيْهَا، فَإِذَا سَمِعْتَ اقْتِحَامَهَا فَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتِ الْغُولُ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ، أَعْفِنِي أَنْ تُكَلِّفَنِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُعْطِيكَ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا أُخَالِفَكَ إِلَى بَيْتِكَ، وَلَا أَسْرِقَ تَمْرَكَ، وَأَدُلَّكَ عَلَى آيَةٍ تَقْرَؤُهَا فِي بَيْتِكَ فَلَا تُخَالَفُ إِلَى أَهْلِكَ، وَتَقْرَؤُهَا عَلَى إِنَائِكَ فَلَا نَكْشِفُ غِطَاءَهُ. فَأَعْطَتْهُ الْمَوْثِقَ الَّذِي رَضِيَ بِهِ مِنْهَا، فَقَالَتْ: الْآيَةُ الَّتِي أَدُلُّكَ عَلَيْهَا هِيَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ. ثُمَّ حَكَّتْ اسْتَهَا تَضْرِطُ. فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ حَيْثُ وَلَّتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " صَدَقَتْ وَهَى كَذُوبٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا كُلُّهُمْ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
مالک بن حمزہ بن ابو اسیدا پنے والد کے حوالے سے اپنے دادا حضرت ابو اسید ساعدی خزرجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں مدینہ منورہ میں ان کا ایک کنواں تھا جس کا نام یئربضاعہ تھا اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ڈالا تھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لعاب دہن کے حوالے سے خوشخبری حاصل کرتے تھے اور اس سے برکت حاصل کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابو اسید نے اپنے باغ کی کھجوریں اتار لیں تو انہیں ایک گودام میں رکھ دیا توغول (یعنی ایک ہوائی چیز)ان کے گودام میں آ جاتی تھی اور کھجوریں چوری کر لیتی تھی اور انہیں خراب کر رہی تھی انہوں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو اسید و ہ غول ہے تم اس کی آہٹ غور سے سننا جب تم اس کے آنے کے بارے میں سنو تو تم یہ پڑھنا: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے تم اللہ کے رسول کی بات کا جواب دو(انہوں نے ایسا ہی کیا)تو اس غول نے یہ کہا: اے ابو اسید تم مجھے اس چیز سے معاف رکھو کہ تم مجھے اس تکلیف کا شکار کرو کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں میں تمہیں اللہ کے نام پر یہ عہد دیتی ہوں کہ اب دوبارہ تمہارے گھر میں نہیں آؤں گی اور تمہاری کھجوروں کو چوری نہیں کروں گی اور میں ایک آیت کے بارے میں تمہاری رہنمائی کرتی ہوں کہ تم انہیں اپنے گھر میں وہ پڑھ لیا کرو تو ہم (شیاطین)تمہارے اہل خانہ کے پاس نہیں آئیں گے اگر تم اسے اپنے برتن پر پڑھ لو گے تو ہم اس ڈھانپے ہوئے برتن کو کھول نہیں سکیں گے پھر اس غول نے ان صحابی کے ساتھ یہ عہد کیا جس سے وہ راضی ہو گئے اس غول نے بتایا کہ وہ آیت جس کے بارے میں میں نے تمہاری رہنمائی کرنی تھی وہ آیت الکرسی ہے اور پھر اس کی پچھلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہونے کی آواز آئی جب وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ویسے تو وہ جھوٹی ہے لیکن اس نے یہ بات سچ بیان کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں سے بعض راوی ضعیف ہیں۔
أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: “There is no God but He is the Living and the Standing” (Al-Baqarah: 255). · Hadith 10876
