مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ [بَابُ الْقِرَاءَاتِ وَكَمْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى حَرْفٍ] · حديث 11582
11582 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَا سَمَّاهُ لَنَا قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الدِّينِ، وَالْفِقْهِ، وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ لَا يَخْتَلِفُ وَلَا يُسْتَشَنُّ، وَلَا يَتْفَهُ لِكَثْرَةِ الرَّدِّ، فَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ، وَمَنْ قَرَأَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْحُرُوفِ الَّتِي عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهُ مَنْ يَجْحَدْ بِآيَةٍ مِنْهُ يَجْحَدْ بِهِ كُلِّهِ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ اعْجَلْ وَحَيَّ هَلًا». قُلْتُ: رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عبدالرحمٰن بن عابس بیان کرتے ہیں: ہمدان سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا تعلق حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگردوں سے ہے انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی راوی بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن نے ان صاحب کا نام بیان نہیں کیا ، وہ صاحب بیان کرتے ہیں : جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے شاگردوں کو جمع کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ دین اس کی سمجھ بوجھ اور قرآن کے علم کے حوالے سے، تم لوگوں کی صورت حال، مسلمانوں کے لشکروں میں سے سب سے بہتر ہے اور اس قرآن میں اختلاف نہیں پایا جاتا اور یہ پرانا نہیں ہوتا اور بکثرت پڑھنے کی وجہ سے یہ بوسیدہ نہیں ہوتا جو شخص ایک طریقے کے مطابق اس کو پڑھے، تو وہ اس سے منہ پھیرتے ہوئے اس کو نہ چھوڑے اور جو شخص ان حروف میں سے کوئی چیز پڑھے جن کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی ہے تو وہ اس سے منہ پھیرتے ہوئے اس کو نہ چھوڑے، کیونکہ جو شخص اس کی ایک آیت کا انکار کرے گا وہ اس کے پورے (وجود )کا انکار کرنے کے مترادف ہو گا اور تمہارا کسی دوسرے شخص کو یہ کہنے کی مانند ہو گا ’’اعجل ،حی ،ھلا (یعنی آ جاؤ) ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
«لَمَّا أَرَادَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ أَصْحَابَهُ، ← رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَا سَمَّاهُ لَنَا ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › [Chapter of Recitations and how much was the Qur’an revealed to a letter] · Hadith 11582
