مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ [بَابُ الْقِرَاءَاتِ وَكَمْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى حَرْفٍ] · حديث 11570
11570 - وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: «قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَغَيَّرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ. قَالَ: فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَقَرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ: " أَحْسَنْتَ ". قَالَ: فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا عُمَرُ، إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا أَوْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں تلاوت کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حوالے سے اس پر اعتراض کیا، اس نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کو پڑھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس میں کوئی تبد یلی نہیں کروائی، راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ دونوں صاحبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو ان دونوں میں سے ایک نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی تلاوت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم نے ٹھیک تلاوت کی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس حوالے سے الجھن محسوس ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! بے شک قرآن پورے کا پورا ٹھیک ہے جب تک مغفرت کو عذاب یا عذاب کو مغفرت نہ بنا دیا جائے ‘‘۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ. ← لَهُ: أَحْسَنْتَ ← فَقَرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ ← فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، ← «قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَغَيَّرَ عَلَيْهِ، ← أَبِي طَلْحَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › [Chapter of Recitations and how much was the Qur’an revealed to a letter] · Hadith 11570
