مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ} [الحاقة: 44]. · حديث 11438
11438 - عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ «أَنَّهُمْ بَيْنَا هُمْ يَطُوفُونَ بِالطَّاغِيَةِ إِذْ سَمِعُوا مُتَكَلِّمًا وَهُوَ يَقُولُ: {وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ} [الحاقة: 44 - 46] فَفَزِعْنَا لِذَلِكَ، فَقُلْنَا: مَا هَذَا الْكَلَامُ الَّذِي لَا نَعْرِفُهُ؟ فَنَظَرْنَا فَإِذَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْطَلِقًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ السَّائِبُ بْنُ يَسَارٍ الطَّائِفِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
یزید بن عامر سوائی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ وہ لوگ طاغیہ کا طواف کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے کسی بولنے لے کو یہ کہتے ہوئے سنا: ’’اور اگر وہ ہماری طرف کوئی ایک بات جھوٹ کے طور پر منسوب کر دیتا تو ہم نے اسے پوری قوت کے ساتھ پکڑ لینا تھا اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دی تھی‘‘۔ ہم اس بات پر گھبرا گئے، ہم نے کہا: یہ کوئی ایسا کلام نہیں ہے جس سے ہم واقف نہ ہوں، پھر ہم نے دیکھا تو وہ نبی اکرم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جوتشریف لے جارہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سائب بن یسار طائفی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
فِيهِ السَّائِبُ بْنُ يَسَارٍ الطَّائِفِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Saying God Almighty: {And if some sayings were to be said to us} [Al-Haqqa: 44]. · Hadith 11438
