مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ [سُورَةُ التَّحْرِيمِ] قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ} [التحريم: 1]. · حديث 11426
11426 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ عِنْدَ سَوْدَةَ الْعَسَلَ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحًا. ثُمَّ دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحًا. فَقَالَ: " أَرَاهُ مِنْ شَرَابٍ شَرِبْتُهُ عِنْدَ سَوْدَةَ، وَاللَّهِ لَا أَشْرَبُهُ ". فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں شہد پیا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی مجھے آپ سے بو محسوس ہورہی ہے پھر آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہ عرض کی کہ مجھے آپ سے بو محسوس ہورہی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ خیال ہے یہ اس مشروب کی وجہ سے ہے جو میں نے سودہ کے ہاں پیا تھا اللہ کی قسم میں اب اسے نہیں پیوں گا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ”اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو؟ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے۔ ... ...‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
إني أجد منك ريحا، ← إني أجد منك ريحا، ثم دخل على حفصة ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَشْرَبُ عِنْدَ سَوْدَةَ الْعَسَلَ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › [Surah al-Taharrim] What he said: (O Prophet, why are you not forbidden) [The prohibition: 1]. · Hadith 11426
