مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ} [الحديد: 3]. · حديث 11402
11402 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " الْعَنَانُ وَرَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ، أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " الرَّقِيعُ مَوْجٌ مَكْفُوفٌ وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ ". ثُمَّ قَالَ: " مَا الَّذِي فَوْقَهَا؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " سَمَاءٌ أُخْرَى، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ ". حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " الْعَرْشُ ". ثُمَّ قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ ". ثُمَّ قَالَ: [أَتَدْرُونَ] مَا هَذِهِ تَحْتَكُمْ؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " أَرْضٌ، تَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " أَرْضٌ أُخْرَى، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهُمَا؟ ". قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ ". حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَاضِينَ، ثُمَّ قَالَ: " وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ دَلَّيْتُمْ [أَحَدَكُمْ] بِحَبْلٍ [إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى السَّابِعَةِ] لَهَبَطَ "، ثُمَّ قَرَأَ {هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} [الحديد: 3]. قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ وَالْأَرْضِ الْأُخْرَى خَمْسَ مِائَةِ عَامٍ، وَهُنَا سَبْعُ مِائَةٍ، فَقَالَ فِي آخِرِهِ: " لَوْ دَلَّيْتُمْ بِحَبْلٍ لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے اسی دوران ایک بادل وہاں سے گزرا آپ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عنان ہے اور زمین کو سیراب کرنے والا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف بھیجا ہے اس کے بندوں میں سے جو اس کا شکر نہیں کرتے اور اس کی عبادت نہیں کرتے، کیا تم لوگ جانتے ہو ان (بادلوں) کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :رقیع ہے، جو ایک مکفوف موج ہے اور ایک محفوظ چھت ہے کیا تم جانتے ہو کہ تم لوگوں کے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سال کی مسافت کا، پھر آپ نے دریافت کیا: اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دوسرا آسمان ہے کیا تم لوگ جانتے ہو تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سال کی مسافت کا یہاں تک کہ آپ نے سات آسمان شمار کروائے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :عرش ہے ، پھر آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو؟ کہ اس (عرش) کے اور ساتویں آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ سو سال کی مسافت کا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین ہے کیا تم لوگ جانتے ہو ، اس کے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اورزمین ہے ، کیا تم جانتے ہو ، ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات سو سال کی مسافت کا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات زمینیں شمار کروائیں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی ایک شخص ساتویں زمین تک کوئی رسّی لٹکائے تو وہ وہیں پہنچے گی ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ہے: ’’ وہی اوّل ہے آخر ہے ظاہر ہے باطن ہے اور وہ ہر شے کے بارے میں علم رکھنے والا ہے ‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ ایک زمین سے دوسری زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور یہاں یہ ذکر ہے کہ سات سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور ان کی روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: ’’اگر تم رسّی لٹکاؤ گے ، تو وہ اللہ تعالیٰ پر ہی جائے گی‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے، اور وہ ضعیف ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Allah, the Most High, said: {He is the first and the last} [Al-Hadid: 3]. · Hadith 11402
