مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ} [البقرة: 197]. · حديث 10852
10852 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ} [البقرة: 197] قَالَ: " الرَّفَثُ: الْإِعْرَابُ وَالتَّعَرُّضُ لِلنِّسَاءِ بِالْجِمَاعِ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَالْجِدَالُ: جِدَالُ الرَّجُلِ صَاحِبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قُرَيْشٍ، وَكِلَاهُمَا فِيهِ لِينٌ وَقَدْ وُثِّقَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد ’’ تو حج کے دوران رفث یا فسوق یا جدال نہیں ہوگا‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:رفث سے مراد فحش کلامی ہے ، اور عورتوں کے ساتھ صحبت کرنا ہے ، فسوق سے مراد گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے اور جدال سے مراد آدمی کا اپنے ساتھی کے ساتھ جھگڑا کرنا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیٰ بن عثمان بن صالح کے حوالے سے سوار بن محمد بن قریش کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں راویوں میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 10852
