مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ} [النجم: 32]. · حديث 11378
11378 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ} [النجم: 32] قَالَ: اللَّمَّةُ مِنَ الزِّنَا. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا» " رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ’’و ولوگ جو کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائی سے اجتناب کرتے ہیں البتہ گناہوں کے پاس جا کے رکنے کا معاملہ مختلف ہے ‘‘حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ زنا کے پاس جا کے رُک جانا ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا: ’’اے اللہ ! اگر تو مغفرت کرتا ہے تو بھر پور مغفرت کر دے تیرا کونسا بندہ ایسا ہے جس نے گناہ کی خواہش نہ کی ہو ‘‘۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
اللَّمَّةُ مِنَ الزِّنَا، وَقال ابْنُ عَبَّاسٍ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ {الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ} [النجم:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {Those who avoid the greatest sin and immorality, except for lamas} [Al-Najm: 32]. · Hadith 11378
