مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ [تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ] وَتَأْتِي طُرُقُ الْحَدِيثِ - حَدِيثِ الْإِفْكِ - فِي مَنَاقِبِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. · حديث 11210
11210 - وَعَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} [النور: 22] قَالَ: أَبُو بَكْرٍ حَلَفَ أَنْ لَا يَنْفَعَ يَتِيمًا كَانَ فِي حَجْرِهِ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: وَهُوَ مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَشَاعَ ذَلِكَ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلَى أَنَا أُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي، وَأَكُونَ لِلْيَتَامَى خَيْرَ مَا كُنْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْهُ ضَعِيفٍ. وَرَوَى نَحْوَهُ عَنْ قَتَادَةَ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، وَرَوَى نَحْوَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ: «قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأَبِي بَكْرٍ: " أَلَا تُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكَ؟ "، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَاعْفُ وَاصْفَحْ "، قَالَ: قَدْ عَفَوْتُ وَصَفَحْتُ، لَا أَمْنَعُهُ مَعْرُوفًا بَعْدَ الْيَوْمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.
مجاہد ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ’’اورتم میں سے فضیلت والے اور گنجائش والے لوگ یہ قسم نہ اٹھائیں‘‘ مجاہد بیان کرتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اپنے زیر پرورش یتیم شخص کو کوئی نفع نہیں پہنچائیں گے۔ عبدالملک نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: وہ صاحب حضرت مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھے ، جنہوں نے اس بات کو پھیلایا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے؟‘‘ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: جی ہاں! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت کرے اور اب میں یتیموں کے حق میں پہلے سے زیادہ بہتر ہو جاؤں گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے جو سند ضعیف ہے اور اس کی مانند ایک روایت قتادہ کے حوالے سے بھی نقل کی ہے جس کی سندعمدہ ہے ، اس کی مانند روایت انہوں نے سعید بن جبیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: کیا تم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم معاف کرو اور درگزر سے کام لو! تو انہوں نے عرض کی : میں نے معاف کیا اور درگزر سے کام لیا اب میں آج کے بعد اس کے ساتھ کی جانے والی کوئی بھلائی نہیں روکوں گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
أَبُو بَكْرٍ حَلَفَ ← مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › [Interpretation of the story of the deception] The methods of hadeeth - hadith of deception - come in the vicinity of Aisha - may God be pleased with them. · Hadith 11210
