مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَذَا النُّونِ} الأنبياء: 87]- الْآيَةَ. · حديث 11176
11176 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَأَتَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَلْ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْءٌ؟ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: [لَا] وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنِّي مَرَرْتُ بِعُثْمَانَ آنِفَا فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَمَلَأَ عَيْنَيْهِ مِنِّي ثُمَّ لَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، قَالَ: فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عُثْمَانَ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَكُونَ رَدَدْتَ عَلَى أَخِيكَ السَّلَامَ؟ قَالَ عُثْمَانُ: مَا فَعَلْتُ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: حَتَّى حَلَفَ وَحَلَفْتُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ ذَكَرَ فَقَالَ: بَلَى وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، إِنَّكَ مَرَرْتَ بِي آنِفًا وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِي بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّهِ مَا ذَكَرْتُهَا قَطُّ إِلَّا تَغْشَى بَصَرِي وَقَلْبِي غِشَاوَةٌ، قَالَ سَعْدٌ: فَأَنَا أُنَبِّئُكَ بِهَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ، ثُمَّ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَشَغَلَهُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبِعْتُهُ حَتَّى أَشْفَقْتُ أَنْ يَسْبِقَنِي إِلَى مَنْزِلِهِ ضَرَبْتُ بِقَدَمِيَ الْأَرْضَ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ أَبُو إِسْحَاقَ "، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَمَهْ؟ "، قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، إِلَّا أَنَّكَ ذَكَرْتَ لَنَا أَوَّلَ دَعْوَةٍ ثُمَّ جَاءَكَ هَذَا الْأَعْرَابِيُّ فَشَغَلَكَ، قَالَ: " نَعَمْ، دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ فَإِنَّهُ لَنْ يَدْعُوَ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ لَهُ» ". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرا میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا لیکن مجھے سلام کا جواب نہیں دیا میں امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا اسلام میں کیا کوئی نیا حکم سامنے آ گیا ہے میں نے یہ بات دو مرتبہ کہی انہوں نے کہا: نہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: کچھ نہیں صرف یہ ہوا کہ میں ابھی تھوڑی دیر پہلے مسجد میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرا میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے نگاہ بھر کے میری طرف دیکھا بھی لیکن مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیغام بھیج کر انہیں بلوایا اور بولے کیا وجہ ہے آپ نے اپنے بھائی کو سلام کا جواب کیوں نہیں دیا؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا ہے میں نے کہا: جی ہاں آپ نے ایسا کیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: یہاں تک کہ انہوں نے بھی حلف اٹھالیا اور میں نے بھی حلف اٹھالیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جی ہاں ایسا ہو سکتا ہے (کہ ایسا ہوا ہو) میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں جب تم میرے پاس سے گزرے ہو گے اس وقت میں ایک چیز کے بارے میں سوچ رہا تھا جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی سنی ہے اور مجھے جب بھی اس چیز کا خیال آتا ہے تو وہ میرے قلب و نظر کو ڈھانپ دیتا ہے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سب سے اہم دعا کے بارے میں ذکر کیا (لیکن وہ دعانہیں بتائی) پھر ایک دیہاتی آپ کے پاس آ گیا تو آپ کی توجہ اس کی طرف مبذول ہو گئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے میں آپ کے پیچھے آیا مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں آپ مجھ سے پہلے گھر نہ پہنچ جائیں میں نے اپنے پاؤں زور سے زمین پر مارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور دریافت کیا: کون ہے؟ کیا ابو اسحاق ہو؟ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی: کچھ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! ابھی آپ نے ذکر کیا تھا جوسب سے اہم دعا کے بارے میں تھا پھر ایک دیہاتی آپ کے پاس آ گیا اور آپ کی توجہ اس کی طرف ہو گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ذوالنون کی دعا ہے جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے (جس کے کلمات یہ ہیں:) ’’ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو ہر عیب سے پاک ہے بے شک میں ظالموں میں سے ایک ہوں‘‘۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:)جو بھی مسلمان اپنے پروردگار سے جس بھی معاملے کے بارے میں ان کلمات کے ہمراہ دعا کرے گا اس کی دعا مستجاب ہو گی ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابراہیم بن محمد بن سعد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے۔
سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {And the nun} Al-Anbiya: 87] - The verse. · Hadith 11176
