مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} [الكهف: 82]. · حديث 11152
11152 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} [الكهف: 82] قَالَ: قَالَ: أُحِلِّتْ لَهُمُ الْكُنُوزُ وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الْغَنَائِمُ، وَأُحِلَّتْ لَنَا الْغَنَائِمُ وَحُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْكُنُوزُ. قُلْتُ: رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے :) ، اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا‘‘۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ان لوگوں کے لئے خزانہ جمع کرنا حلال تھا اور ان کے لئے مالِ غنیمت حرام قرار دیا گیا تھا ہمارے لئے مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے اور ہم پرخزانہ اکٹھا کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس کے علاوہ ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبد اللہ بن ابو فروہ ہے ، اور وہ متروک ہے۔
أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {And under it was a treasure for them} [Al-Kahf: 82]. · Hadith 11152
