مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ [بَابُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ] · حديث 10828
10828 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَعَلَّمُوا الزَّهْرَاوَيْنِ: الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا تَجِيئَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ - أَوْ: كَأَنَّهُمَا غَيَابَتَانِ، أَوْ: كَأَنَّهُمَا فَرْقَانِ - مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا، تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ ; فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ، وَعَمْرُو بْنُ مُخَلَّدٍ اللَّيْثِيُّ، لَمْ أَعْرِفْهُمَا.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دو چمک دار چیزوں سورت بقرہ اور سورت آل عمران کا علم حاصل کرو کیونکہ قیامت کے دن میں دونوں یوں آئیں گی جیسے یہ دونوں دو بادل ہیں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی شک ہے)یا یہ پرندوں کی دو قطاریں ہیں اور یہ دونوں اپنے پڑھنے والے کی طرف سے بحث کریں گی، تم لوگ سورت بقرہ سیکھو کیونکہ اس کو حاصل کرنا برکت ہے اور اسے ترک کر دینا ہے حسرت ہے ، اور باطل لوگ (یعنی جادوگر اس کو سیکھنے کی)استطاعت نہیں رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ہلال بارقی ہے ، جسے ابو حاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمٰن بن خلاد ہے اور ایک راوی عمر و بن مخلد لیثی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Hadith 10828
