مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ} [الإسراء: 86]. · حديث 11140
11140 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَيُنْزَعَنَّ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ، قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَسْنَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا؟ قَالَ: يَسْرِي عَلَى الْقُرْآنِ لَيْلًا فَلَا يَبْقَى فِي قَلْبِ عَبْدٍ وَلَا فِي مُصْحَفِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَيُصْبِحُ النَّاسُ فُقَرَاءَ كَالْبَهَائِمِ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا} [الإسراء: 86]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: تم لوگوں کے درمیان میں سے اس قرآن کو الگ کر دیا جائے گا راوی نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن کیا ہم قرآن نہیں پڑھتے ہیں اور کیا ہم نے اسے مصحف کی شکل میں محفوظ نہیں کیا ہوا ہے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :قرآن پر ایک رات ایسی آئےگی کہ جب یہ کسی بندے کے دل میں نہیں رہے گا اور کی صف میں اس میں سے کچھ نہیں رہے گا اور جب لوگ صبح کریں گے ، تو ان کے قرآن کے عالم جانوروں کی مانند (علم سے بے بہرہ )ہوں ۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’اور اگر ہم چاہیں تو ہم اس کو لے جائیں جو ہم نے تمہاری طرف وحی نازل کی ہے ، اور پھر تم اس کے حوالے سے ہمارے خلاف کوئی وکیل (کارساز )نہیں پاؤ گے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف شداد بن معقل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے۔
يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَسْنَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا؟ ← لَيُنْزَعَنَّ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › God Almighty said: {If we wish, let us go by what we revealed to you} [Al-Israa: 86]. · Hadith 11140
