مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى} [الرعد: 8] وَالْآيَاتُ بَعْدَهَا. · حديث 11092
11092 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ يَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَقَالَ: أَيْشِ رَبُّكَ الَّذِي تَدْعُونِي؟ مِنْ حَدِيدٍ هُوَ؟ مِنْ نُحَاسٍ هُوَ؟ مِنْ فِضَّةٍ هُوَ؟ مِنْ ذَهَبٍ هُوَ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَأَعَادَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثَّانِيَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ أَنْزَلَ عَلَى صَاحِبِكَ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْهُ ". فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ} [الرعد: 13]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِلَى رَجُلٍ مِنْ فَرَاعِنَةِ الْعَرَبِ. وَقَالَ الصَّحَابِيُّ فِيهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أَعْتَى مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ، قَالَ: فَأَعَادَ عَلَيْهِ ذَلِكَ الْكَلَامَ، فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ سَحَابَةً حِيَالَ رَأْسِهِ فَرَعَدَتْ، فَوَقَعَتْ مِنْهَا صَاعِقَةٌ فَذَهَبَتْ بِقَحْفِ رَأْسِهِ. وَبِنَحْوِ هَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: فَرَعَدَتْ وَأَبْرَقَتْ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ دَيْلَمِ بْنِ غَزْوَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي رِجَالِ أَبِي يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيِّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت انس بن بیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت کے اکارین کے پاس بھیجا تاکہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے تو اس شخص نے (یعنی زمانہ جاہلیت کے فرد نے کہا:)تم اپنے پروردگار کے بارے میں بتاؤ جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو کیا وہ لوہے کا بنا ہوا ہے یا پیتل کا بنا ہوا ہے یا چاندی کا ہے یا سونے کا ہے؟ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اس صحابی کو اس شخص کی طرف بھیجا پھر اس نے اس کی مانند بات کہی وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ اس کی طرف اس شخص کو بھیجا تو اس نے پھر یہی بات کی وہ صحابی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے متعلقہ فرد پر آسمانی بجلی نازل کر دی ہے جس نے اسے جلا دیا ہے ‘‘پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ’’اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے ، اور وہ اس تک پہنچ جاتی ہیں جس کو وہ چاہتا ہے جبکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں بحث کر رہے ہوتے ہیں ، اور وہ شدید گرفت کرنے والا ہے ‘‘۔یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : عربوں کے فرعونوں میں سے ایک شخص کی طرف صحابی کو بھیجا اور صحابی نے اس کے بارے میں یہ کہا ہے : اے اللہ کے رسول اس شخص نے سرکشی کا اظہار کیا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ اس کی طرف بھیجا اور اس نے یہی بات دہرائی تو اسی دوران کہ وہ کافر شخص اس مسلمان کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جو اس شخص کے سر کے مین اوپر آ گیا اس میں سے بجلی کڑکی اس میں سے بجلی نکلی اور اس کا سرختم ہو گیا۔ اس کی مانند روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں:’’اس میں بجلی کڑکی اور بجلی چمکی‘‘۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال میں صرف دیلم بن غزوان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے امام ابو یعلیٰ اور امام طبرانی کے رجال میں سے ایک راوی علی بن ابو سارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {God knows what every female carries} [Al-Ra'd: 8] and the verses after them. · Hadith 11092
