مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ} [الأعراف: 172]. · حديث 11020
11020 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِنَعْمَانَ - يَعْنِي: عَرَفَةَ -، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ [كَالذَّرِّ]، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا، فَقَالَ: {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ - أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ} [الأعراف: 172 - 173]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے عرفہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے میثاق لیا تھا اس نے ان کی پشت سے ان کی ہر اُس اولا دکونکال دیا جس کو اس نے پیدا کرنا تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے یوں پھیلا دیا جیسے چیونٹیاں ہوتی ہیں پھر ان کے سامنے آ کر ان کے ساتھ کلام کیا اور فرمایا: کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں (پروردگار نے فرمایا:)ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم یہ ہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے یا تم یہ کہو کہ اس سے پہلے ہمارے باپ دادا شرک کر چکے تھے ہم تو اس کے بعد آنے والی اولاد تھے تو کیا تو ہمیں ان لوگوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار کر دے گا جو باطل لوگوں نے کام کیا تھا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {And as your Lord took from the children of Adam from their offspring from their backs} [Al-A'raf: 172]. · Hadith 11020
