مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ} [الأنعام: 44]. · حديث 10996
10996 - عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الْعَبْدَ فِي الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ ". ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ} [الأنعام: 44]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ {فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الأنعام: 45].
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:”جب تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو کہ وہ کسی بندے کو دنیا میں اس کے گناہوں کے باوجود اس کی پسندیدہ چیزیں عطا کرتا ہے تو یہ چیز استدراج ہو گی ‘‘پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی ’’ جب وہ اس چیز کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ وہ لوگ اس چیز سے خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھی اور پھر ہم نے اچانک ان پر گرفت کی تو اس وقت مایوس ہو کے رہ گئے‘‘۔یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائدنقل کیے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے :)’’ تو اس قوم کی جڑ کاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ‘‘۔
النَّبِيِّ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {So when they forgot what they were mentioned, we opened to them the doors of everything} [Al-An'am: 44]. · Hadith 10996
