مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ} آل عمران: 180] · حديث 10912
10912 - وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَنْقُرُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ، {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180]. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ.
ایک روایت جو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے حوالے سے منقول ہے اس کے مطابق وہ بیان کرتے ہیں : جس شخص کا مال ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسے گنجے سانپ کی شکل میں اس کو طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا وہ اس کے سر پر دانت مارے گا اور یہ کہے گا ۔ میں تمہارا وہ مال ہوں جس کے حوالے سے تم بخل کیا کرتے تھے۔ (اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے:)’’ وہ جس چیز کے بارے میں بخل کرتے تھے قیامت کے دن وہ چیز انہیں طوق کے طور پر پہنا دی جائے گی‘‘۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، اور ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں۔
عَبْدِ اللَّهِ، أَيْضًا، ← وَفِي رِوَايَةٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: (They will encircle what they are left with). Al-Imran: 180] · Hadith 10912
