سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کے کسی بھی حصے کی تفسیر اپنی ذاتی رائے سے بیان نہیں کرتے تھے البتہ چند آیات کا معاملہ مختلف ہے ان (آیات کی تفسیر)کے بارے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تھا ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے کہ ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک نے بھی اس کا نام نقل کیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام بزار نے یہ کہا ہے کہ یہ حفص کے حوالے سے منقول ہے میرا خیال ہے یہ حفص بن عبداللہ ہے اس کے حوالے سے ہشام بن عروہ سے منقول ہے امام ابو یعلیٰ نے یہ کہا ہے کہ یہ فلاں بن محمد کے حوالے سے ہشام سے منقول ہے ۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › [Chapter: How the Qur’an is explained] · Hadith 10804
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ [بَابُ كَيْفَ يُفَسَّرُ الْقُرْآنُ] · حديث 10805
ضحاک بن مزاحم ہلالی بیان کرتے ہیں:نافع بن ازرق اور نجدہ بن عویمر ، خوارج کے اکابرین کے ہمراہ علم کے حصول اور اس کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ وہ مکہ آگئے (ایک دن)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ زمزم کے کنویں کے پاس تشریف فرما تھے، انہوں نے سرخ چادر اور قمیص پہنی ہوئی تھی وہاں کچھ لوگ کھڑے ہوکر ، ان سے تفسیر کے بارے میں سوالات کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے ابوعباس ! آپ فلاں فلاں (آیت کی تفسیر)کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں جواب دیتے:وہ (یعنی اس کی تفسیر)اس ، اس طرح ہو گی ۔ نافع بن ازرق نے ان سے کہا: اے ابن عباس! آج آپ جن امور کے بارے میں بتارہے ہیں تو آپ (اس حوالے سے)کتنی جرأت کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا : اے نافع تمہاری ماں تمہیں روئے اور تمہیں کھو دے ، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو مجھ سے بھی زیادہ جرأت کا مظاہرہ کرنے والا ہے؟ اس نے دریافت کیا: اے ابن عباس ! وہ کون ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:وہ شخص، جو اس (چیز یا مسئلہ کے)بارے میں کلام کرے ، جس کے بارے میں ، اس کے پاس علم نہ ہواور (دوسرا)وہ شخص جو اپنے پاس موجود علم کو چھپائے ۔ اس نے کہا: اے ابن عباس! آپ نے سچ کہا ہے ، میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں ، تاکہ آپ سے سوالات کروں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اے ابن ازرق! (سوال)لاؤ! اور پوچھو! نافع نے سوال کیا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : يرسل عليكما شواظ من نار یہاں’’ شواظ ‘‘سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: وہ شعلہ جس میں دھواں نہیں ہوتا ہے۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم یا معنی)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے اُمیہ بن ابو صلت کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔الا من مبلغ حسان عنى ۔۔۔۔۔۔۔۔مغلغلة تيب إلى عكاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔اليس أبوك قينا كان فينا ۔۔۔۔۔۔۔۔إلى القينات فسلا في الحفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔يمانيا يظل يشب كيرا ۔۔۔۔۔۔۔۔وينفخ دايبا لهب الشواط ۔۔۔۔۔۔۔۔”خبردار! کون میری طرف سے حسان کو یہ پیغام پہنچائے گا جو پیغام چلتا ہوا عکاظ (کے میلے)تک بھی پہنچ جائے ، کیا تمہارا باپ ہمارے درمیان لوہار نہیں تھا اور کنیزوں کی حفاظت کے معاملے میں وہ کمزور (یا بزدل)تھا ، وہ یمنی تھا اور مسلسل بھٹی میں آگ لگاتا رہتا تھا اور دھویں کے بغیر والے شعلوں میں پھونک مارتا رہتا تھا‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: ونحاش فلا تنتصيران یہاں’’نحاس‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: وہ شعلہ ، جس میں دھواں نہیں ہوتا ہے ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے بنو ذبیان کے ’’نابغہ‘‘ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے : ۔۔۔۔۔۔۔۔ يضيئ كضوء سراج السلیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ط لم يجعل الله فيه تحاشا ۔۔۔۔۔۔۔۔’’وہ ایسے چراغ کی مانند چمکتا ہے جو چراغ ایسے تیل سے روشن ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے نحاس (یعنی دھویں کے بغیر شعلہ)بنا یا ہو ‘‘۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : (کہ اس سے مراد کیا ہے ؟)حضرت عبد اللہ بن عباس ، نے جواب دیا:مرد کا نطفہ اور عورت کا نطفہ جب رحم میں اکٹھے ہو جائیں تو اس کو ’’مشج‘‘ کہتے ہیں۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم یا معنی ٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے ابو ذؤیب ہذلی کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے:۔۔۔۔۔۔۔۔كان الفضل والفوقين منه ۔۔۔۔۔۔۔۔خلال الریش سیط به مشیج ۔۔۔۔۔۔۔۔’’جیسے (تیر کا)نصل (یعنی)پھل اور دونوں فوق (یعنی وہ حصہ جو کمان کے تار پر رکھا جاتا ہے)اس سے ہے اور پروں کے درمیان میں اس کے ذریعے انہیں اکٹھا کیا گیا ہے۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: والتفت الساق بالساق یہاں’’ الساق بالساق‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جنگ ۔نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے ابو ذویب کا یقول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔أخو الحرب إن عضت به الحرب عضها ۔۔۔۔۔۔۔۔وان شمرت عن ساقها الحرب شمرا ۔۔۔۔۔۔۔۔’’وو جنگ کا متعلقہ فرد ہے اگر جنگ اسے کاٹے تو وہ اس (جنگ)کو کاٹ لیتا ہے ، اور اگر جنگ پنڈلی سے کپڑا ہٹائے تو وہ بھی پائینچے چڑھالیتا ہے ‘‘نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : بنین وحفدہ یہاں’’بنون‘‘اور’’حفدۃ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جہاں تک تمہارے بیٹوں کا تعلق ہے تو وہ تمہیں (مال وغیرہ)پکڑاتے ہیں اور جہاں تک تمہارے ’’حفدۃ‘‘ کا تعلق ہے تو اس سے مراد تمہارے خادمین ہیں ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے اُمیہ بن ابو صلت کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔حفد الولايد خولهن والقيت ۔۔۔۔۔۔۔۔ بأكفهن أزمة الأعمال ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ان کے اردگر دکنیزیں ان کی خدمت کرتی ہیں اور سواریوں کی لگامیں ، ان کے ہاتھوں میں ڈال دی گئی ہیں‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: إنما أنت من المسحرين (یعنی یہاں لفظ’’مسحرین‘‘ سے کیا مراد ہے؟)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا :مخلوق۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے اُمیہ بن ابو صلت ثقفی کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔ فإن تسالينا ممہ نحن فإننا ۔۔۔۔۔۔۔۔عصافير من هذا الأنام المسخر ۔۔۔۔۔۔۔۔”اگر تم ہم سے یہ پوچھو کہ ہمارا تعلق کن سے ہے؟ تو ہم اس مخلوق کی چڑیائیں ہیں‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے : فنبذناہ فی اليم وهو مليم یہاں’’علیم‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: گناہگار نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے اُمیہ بن ابو صلت کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔ بعيد من الأفات لست لها بأهل ۔۔۔۔۔۔۔۔ولكن المسيئ هو المليم ۔۔۔۔۔۔۔۔’’آفات سے دور ہو تم ان کے اہل نہیں ہو ، لیکن برا کام کرنے والا ہی گناہگار ہوتا ہے‘‘۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: قل أعوذ برب الفلق یہاں ’’فلق‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : صبح کی روشنی ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے لبید کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے وہ کہتا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔ الفارج الهم مبذول عساكره ۔۔۔۔۔۔۔۔كما يفرج ضوء الظلمة الفلق ۔۔۔۔۔۔۔۔’’غم کو دور کرنے والا اس کے لشکروں پر (مال وغیرہ کو)خرچ کیا گیا، جس طرح صبح کی روشنی رات کی تاریکی کو ختم کر دیتی ہے‘‘۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: لكيلا تأسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا بما اتاكم یہاں (لفظ’’تأسوا‘‘)’’اساۃ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : یہ کہ تم غمگین نہ ہو۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے لبید بن ربیعہ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔قليل الاسى فيما أتى الدّهر دونه ۔۔۔۔۔۔۔۔كريم الثنا حلو الشمائل معجب۔۔۔۔۔۔۔۔’’ زمانہ اس پر جو (مشکلات وغیرہ)لایا ، وہ ان پر ، کم غمگین ہونے والا ہے ، وہ معزز تعریف ، میٹھے اخلاق کا مالک ، پسندیدہ فرد ہے‘‘۔نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: انه ظن أن لن يحور یہاں ’’یجور ‘‘سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: وہ لوٹے گا۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ، کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے لبید بن ربیعہ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔وما المرءإلا كالشهاب وضوؤه ۔۔۔۔۔۔۔۔تحور رمادا بعد اذهو ساطع۔۔۔۔۔۔۔۔’’آدمی کی مثال شہاب (ستارے)کی طرح ہے ، جس کی چمک لوٹ کر راکھ ہو جاتی ہے ، حالانکہ وہ (پہلے)چمک رہا ہوتا ہے‘‘۔نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: يطوفون بينها وبين حمیمہ آن یہاں’’ آن‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جس کی گرمی انتہا کی ہو۔نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے بنو ذبیان کے’’ نابغہ‘‘ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔فإن يقبض عليك أبو قبيس ۔۔۔۔۔۔۔۔تحط بك المنية فی هوان ۔۔۔۔۔۔۔۔وتخضب لحية غدرت وخانت ۔۔۔۔۔۔۔۔بأحمر من تجيع الجوف آن ۔۔۔۔۔۔۔۔’’اگر ابو قبیس تم پر سمٹ جائے ، تو موت تمہیں بے حیثیت ہونے کی حالت میں گرا دے گی ، اور عہد شکنی اور خیانت کرنے والی داڑھی کو ، پیٹ کے سرخ اور انتہائی گرم خون کا خضاب لگا دیا جائے گا‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: فأصبعت كالضريم یہاں’’صریم‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: تاریک رات۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے بنو ذبیان کے ’’نابغہ‘ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔لا تزجروا مكفهر الأكفاءله ۔۔۔۔۔۔۔۔كالليل يخلط أصرامًا بأصرام ۔۔۔۔۔۔۔۔’’تم زجر نہ کرو، وہ اپنے ہم پلہ افراد پر غصہ کرتا ہے ، جس طرح تاریک رات کے حصے گھل مل جاتے ہیں‘‘۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: إلى غسق الليل یہاں’’فسق اللیل‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : جب وہ (یعنی رات)تاریک ہوجائے ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم ،یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے نابغہ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے : وہ کہتا ہے : ۔۔۔۔۔۔۔۔کانماجل ما قالوا وما وعدوا ۔۔۔۔۔۔۔۔آن تضمنه من دامیں غسق ۔۔۔۔۔۔۔۔’’انہوں نے جو کچھ کہا اور جو وعدے کیے ہیں ان میں سے زیادہ تر ، گویا ایسا سراب ہیں ، جس کے ساتھ ، رات کی تار کی بھی ہو ‘‘(یہاں اس روایت کے ایک راوی)ابو خلیفہ کہتے ہیں : (اس شعر میں لفظ)’’آل‘‘ سے مراد ، سراب ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں :)یہی درست ہے ، یعنی ان کی کہی ہوئی بات اور ان کے کیے ہوئے وعدے ، زیادہ تر سراب جیسے ہی ہیں ۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: وكان الله على كل شیی مقيتا یہاں ’’مقیت‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: قدرت رکھنے والا ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے امرؤ القیس کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے : ۔۔۔۔۔۔۔۔وذى ضغن کففت الضغن عنه ۔۔۔۔۔۔۔۔وانی فی مساءتہ مقيت ۔۔۔۔۔۔۔۔’’وہ کہنے والا ہے اور میں نے اس کے کہنے کو روک لیا ہے اور میں اس کی برائیاں بیان کرنے پر قدرت رکھتا ہوں‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: والليل إذا ععس (یعنی یہاں لفظ ’’عسعس‘‘ سے کیا مراد ہے؟) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: اس کی سیاہی (یا تاریکی)کا آنا ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے امرؤالقیس کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے : ۔۔۔۔۔۔۔۔عسعس حتی لویشاء ۔۔۔۔۔۔۔۔كان له من ضوءہ قمس ’’رات کی تاریک آ چکی ہے اگر وہ چاہے تو اس کو روشنی کا ٹکڑا مل سکتا ہے ‘‘نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے : وانا به زعیم (یعنی یہاں لفظ’’ زعیم‘‘ سے کیا مراد ہے؟) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: زعیم سے مراد کفیل (ضمانتی)ہے ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے امرؤالقیس کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔وانی زعیم إن رجعت مملکا ۔۔۔۔۔۔۔۔بسير ترى منه الفرائق آزورا ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ میں اس بات کا ضامن ہوں کہ اگر میں دوبارہ بادشاہ بن گیا تو ایسا سفر کروں گا کہ تم دیکھو گے ، کہ شیر (یا شکر کے آگے راہنما کے طور پر چلنے والے لوگ)بھی اس سے بھاگیں گے‘‘ ۔نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: وفومها یہاں’’فوم‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : گندم ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنی ٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے ابو ذویب ہذلی کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔قد كنت تحسمينی کاغنى وافد ۔۔۔۔۔۔۔۔قدمہ المدينة عن زراعة فوم ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ تم میرے بارے میں یہ گمان کرتے تھے کہ میں سب سے زیادہ خوشحال ملاقاتی ہوں جو مدینہ آیا ہے اس کی وجہ گندم کی کھیتی باڑی تھی‘‘ ۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: الأزلام یہاں’’ازلام‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا :فال (یا پانسے)کے تیر۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے ختطیہ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔لا يزجر الطيران مرت به سنعا ۔۔۔۔۔۔۔۔ولا يقام له قدح بازلام ۔۔۔۔۔۔۔۔’’اگر پرندہ اس کے پاس سے گزرے تو وہ مہربانی کی وجہ سے اس کو نہیں ڈالتا ہے اور اس کے لیے قال(یا پانسے) کے تیر کھڑے نہیں کیے جاتے ہیں‘‘ ۔نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: أصحاب المشأمة ما أصحاب المشأمة (یعنی یہاں’’اصحاب المشأمة‘‘ سے کیا مراد ہے؟) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: بائیں طرف کے لوگ۔ نافع نے دریافت کیا : کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے زہیر بن ابو سلمیٰ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: وہ کہتا : ۔۔۔۔۔۔۔۔نزل الشيب بالشمال قريبا ۔۔۔۔۔۔۔۔والمرورات دانيا وحقيرا ۔۔۔۔۔۔۔۔”عنقریب بائیں طرف بڑھایا جائے گا اور گزری ہوئی چیزیں کمتر اور حقیر ہو جائیں گی‘‘ ۔نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: وإذا البحار سجرت (یعنی یہاں اس سے کیا مراد ہے؟) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: اس (سمندر)کے پانی کا زمین کے پانی کے ساتھ مل جانا۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد ، پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے زہیر بن ابو سلمیٰ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔لقد عرفت ربيعة فی جذام ۔۔۔۔۔۔۔۔وكعب خالها والبناضرار ۔۔۔۔۔۔۔۔لقد نازعتهم حسبا قديما ۔۔۔۔۔۔۔۔وقد سجرت بحارهم بحاری ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ربیعہ (قبیلے)نے جذام میں پہچان لیا ہے اور کعب ان کا ننھیالی عزیز ہے ، اور ضرار کے دو بیٹوں کو (انہوں نے پہچان لیا)میں ایک طویل عرصے سے حسب میں ، ان کے ساتھ تنازع کرتا آ رہا ہوں ان کے سمندروں (کا پانی)میرے سمندروں کے ساتھ مل گیا ہے ‘‘۔نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: والسماء ذات الحبك یہاں’’حبک‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:(مختلف)راستے ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے زہیر بن ابو سلمیٰ کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔مكلل بأصول النجم تنسجہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ريح الشمال الضاحی مابه حبك ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ستارے کی جڑوں کے ذریعے اس کو آراستہ کیا گیا ہے جس کو شمال کی ہوا نے ظاہر ہونے والے کے لیے بنا ہے اس میں راستے نہیں ہیں‘‘۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: جد ربنا (یعنی یہاں اس سے کیا مراد ہے؟) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ہمارے پروردگار کی عظمت بلند ہوئی۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ، کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنیٰ)سے واقف تھے؟حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے طرفہ بن عبد کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا جو اس نے نعمان بن منذر سے(یا نعمان بن منذر کے لیے)کہا تھا: ۔۔۔۔۔۔۔۔إلى ملك يضرب الذارعين ۔۔۔۔۔۔۔۔لم ينقص الشيب منه قبالا ۔۔۔۔۔۔۔۔ترفع بجدك انی امرؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔شقتنى الأعادی سجالا سجالا ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ایسے بادشاہ کی طرف جو زر ہیں پہننے والوں پر ضرب لاتا ہے ، بڑھاپے نے اس پر کوئی اثر نہیں کیا ہے تم اپنی بزرگی کے ہمراہ ، سر بلند رہو ، میں ایک ایسا شخص ہوں ، کہ دشمنوں نے مجھے ڈول کے ڈول پلائے ہیں‘‘ ۔نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: حتى تكون خرضا (یعنی یہاں’’حرض‘‘ سے کیا مراد ہے؟) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا :حرض سے مراد بوسیدہ ہو جاتا ہے۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم یا معنیٰ)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے طرفہ بن عبد کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے : ۔۔۔۔۔۔۔۔امن ذکر لیلی إن نات غرية بها ۔۔۔۔۔۔۔۔اعد غريضا يلكرا محرم ۔۔۔۔۔۔۔۔’’اگر غریب الوطنی کی وجہ سے ، اس (کے وجود)سے ، دوری ہے ، تو کیا لیلیٰ کے ذکر سے ، میں یوں بوسیدہ ہو جاؤں گا(کہ اٹھنے کے قابل ندر ہوں)یوں کہ اس کا بدلہ حرام ہوگا‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: وانتم سامدون (یعنی یہاں’’ سامدون‘‘ سے کیا مراد ہے؟) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا :لہو (یا غفلت کا شکار ہونے)والے ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم ، یا معنی)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے ہزیلہ بنت بکر کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا جو اس نے عاد پر روتے ہوئے کہا تھا: ۔۔۔۔۔۔۔۔بعثت عاد لقیما ۔۔۔۔۔۔۔۔وائى سعد شيريدا ۔۔۔۔۔۔۔۔قيل قم فانظر اليهم ۔۔۔۔۔۔۔۔ثمہ دع عنك السمودا ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ عاد کو یوں کر دیا گیا کہ اس کو نگل لیا گیا اور سعد کی یہ حالت ہوئی کہ اس کو ایک طرف کر دیا گیا اور یہ کہا گیا: تم اٹھو اور ان کی طرف دیکھو! اور پھر اپنے آپ سے لہو لعب کا شکار ہونا چھوڑ دو!‘‘۔ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: إذا تسق اس میں ’’اتساق‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : جب وہ اکٹھا ہو جائے ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنی)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے ابو صرمہ انصاری کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔إن لنا قلائصا تقائقا ۔۔۔۔۔۔۔۔مستوسقات لو يجدن سائقا ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ہمارے پاس عمدہ جوان اونٹنیاں ہیں ، کہ اگر انہیں کوئی ہانک کر لے جانے والا مل جائے تو وہ منظم رہتی ہیں‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: الصمد (نافع نے کہا:)جہاں تک لفظ’’احد ‘‘کا تعلق ہے تو اس (کا مطلب اور مفہوم)ہم جانتے ہیں لیکن ’’الصمد‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: وہ ذات کہ تمام امور میں جس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم ، یا معنی)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے اسدیہ (عورت)کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے؛ الابكر الناعي بخير بني أسد ۔۔۔۔۔۔۔۔بعمرو بن مسعود وبالسيدالصمد ”خبردار ! موت کی خبر دینے والے نے علی الصبح بنو اسد کے بہترین فرد ، عمرو بن مسعود ، جو رجوع کا مرکز ، سردار ہے (اس کے انتقال کی)اطلاع دی ہے‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: يلق أثاما یہاں’’ اثام‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : جزاء (یعنی بدلہ)۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم ، یا معنی)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے بشر بن ابو خازم اسدی کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں : وان مقامنا ندعو عليهم ۔۔۔۔۔۔۔۔بابطح ذى المجازلہ آثام ’’ ان (لوگوں)کے خلاف دعا کرنے کے لیے ہمارے کھڑے ہونے کی جگہ ذوالمجاز کی کشادہ سر زمین ہے ، یہ ان کے لیے بدلہ ہے ‘‘نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: وھو کظیم یہاں ’’تنظیم‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : خاموش ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم ، یا معنی)سے واقف تھے؟ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے زہیر بن خزیم عبسی کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: فإن يك كاظما بمصاب شاس ۔۔۔۔۔۔۔۔فانی ٍاليوم منطلق لسانی ’’اگر وہ (غصے یا تکبر کی وجہ سے)آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے والے شخص کی طرف سے ملنے والی تکلیف پر خاموش بھی رہتا ہے تو آج میں اپنی زبان کو (اس کو جواب دینے کے لیے)کھلا چھوڑتا ہوں‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائے: أو تسمع لهم ركزا یہاں’’رکز‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: آواز ۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے عرب اس (مفہوم ، یا معنی)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! کیا تم نے خراش بن زہیر کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: فإن سمعتم بخیل ھابط شرفا ۔۔۔۔۔۔۔۔اوبطن قوفأخفوا الركزوا كتتموا ” جب تم گھڑ سواروں کے بارے میں سنو ، کہ وہ کسی ٹیلے سے نیچے اتر رہے ہیں یا نشیبی حصے کی طرف آ رہے ہیں ، تو آواز پست کرو اور چھپ جاؤ‘‘ نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتایئے: إذ تحسونهم بإذنه (یعنی اس سے کیا مراد ہے؟) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : یعنی جب تم اس کے حکم سے ان لوگوں کو قتل کر رہے تھے۔ نافع نے دریافت کیا: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب (یعنی قرآن مجید)نازل ہو نے سے پہلے ، عرب اس (مفہوم ، یا معنی)سے واقف تھے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! کیا تم نے عتبہ لیثی کا یہ قول (یعنی یہ شعر)نہیں سنا ہے: تحسھم بالبيض حتى كأنما ۔۔۔۔۔۔۔۔تفيق منهم بالجماجم حنظلا ’’ہم تلواروں کے ذریعے انہیں قتل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ہم ان کے سر، یوں اڑاتے ہیں ، جیسے حنظلہ نامی بوٹی کو چیرا جاتا ہے‘‘۔نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے: یا ایھا النبی إذا طلقتم النساء ”اے نبی ! جب تم خواتین (یعنی اپنی ازواج کو)طلاق دو... ‘‘۔کیا زمانہ جاہلیت میں بھی طلاق کا رواج تھا؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! بائنہ ، طلاق ہوتی تھی ، جو تین طلاقوں کی شکل میں ہوتی تھی ۔ کیا تم نے اعشیٰ بن قیس بن ثعلبہ کا یہ قول نہیں سنا ، کہ جب اس کے سسرالی عزیزوں نے اس پر غصے کی وجہ سے اس کو پکڑ لیا اور انہوں نے کہا: تم نے ہماری عزیزہ کو ضرر پہنچایا ہے تو ہم نے اللہ کے نام پر یہ قسم اٹھائی ہے کہ ہم تمہاری مسلسل پٹائی کرتے رہیں گے ، یا پھر تم اس عورت کو طلاق دیدو! جب اس نے ان لوگوں کے تیور دیکھے کہ وہ (اس کے ساتھ)بُرا سلوک کریں گے ، تو اس نے (یہ شعر)کہا: ۔۔۔۔۔۔۔اجارتنا بيني فإنك طالقة ۔۔۔۔۔۔۔كذالك أمور الناس غاد وطارقة ۔۔۔۔۔۔۔’’اے ہماری ساتھی عورت ! تو بائنہ ہو جا! کیونکہ تجھے طلاق مل گئی ہے لوگوں کے امور میں اسی طرح صبح و شام ہوتی ہے (یعنی ان میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے)‘‘۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یا تو تم اس عورت کو بائنہ طلاق دیدو ، ورنہ ہم مسلسل تمہاری پٹائی کرتے رہیں گے ، تو اس نے (یہ شعر)کہا تھا: ۔۔۔۔۔۔۔۔فبينی حصان الفرج غير ذميمة ۔۔۔۔۔۔۔۔ومأموقة منا كما أنت وامقة ۔۔۔۔۔۔۔۔” اے پا کدامن عورت ! تم بائنہ ہو جاؤ ، اس حال میں کہ تم قابل مذمت نہیں ہو ، جس طرح تم محبت کرنے والی تھیں ، اس طرح ہماری طرف سے محبت نہیں کی جاسکی‘‘۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یا تو تم اس عورت کو بائنہ طلاق دیدو ورنہ ہم مسلسل تمہاری پٹائی کرتے رہیں گے ، تو اس نے (یہ شعر)کہا تھا: ۔۔۔۔۔۔۔۔وبين فإن البين خير من العصا ۔۔۔۔۔۔۔۔وأن لا تزالی فوق رأسك بارقة ۔۔۔۔۔۔۔’’تم بائنہ ہوجاؤ! کیونکہ علیٰحدگی ، عصا(یعنی مارکھانے)سے بہتر ہے ، اور (میری دعا ہے)کہ تمہارے سر پر ہمیشہ خوش نصیبی (یا ناز ونعمت)کا ستارہ رہے ‘‘۔ تو اس (یعنی اعشیٰ بن قیس بن ثعلبہ)نے اس خاتون کو تین طلاقوں کے ذریعے بائنہ کر دیا۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ متروک ہے۔
الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ الْهِلَالِيِّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › [Chapter: How the Qur’an is explained] · Hadith 10805
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سورت کے ختم ہونے کا اس وقت تک پتہ نہیں چلتا تھا جب تک بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نازل نہیں ہو گئی جب بسم اللہ الرحمنٰ الرحیم نازل ہو جاتی تو آپ کو یہ پتہ چل جاتا کہ سورت ختم ہو گئی ہے اور اب نئے سرے سے اگلی سورت شروع ہو گی ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں: امام ابو داؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے: ’’سورت کے خاتمے کے پتہ نہیں چلتا تھا یہاں تک کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نازل ہو گئی۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث کتاب الصلوۃ میں گزر چکی ہیں ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10806
حضرت ابن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پانی بہایا تھا (یعنی آپ قضائے حاجت کر کے آئے تھے)میں نے عرض کی : السلام علیک یا رسول اللہ! آپ نے مجھے جواب نہیں دیا میں نے عرض کی: یارسول اللہ! آپ پر سلام ہو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا میں نے عرض کی: یارسول اللہ! آپ پر سلام ہو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چلتے ہوئے تشریف لے گئے میں آپ کے پیچھے تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پالان میں داخل ہوئے میں مسجد میں داخل ہو گیا۔ پریشان اور غمگین بیٹھا ہوا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ وضوکر چکے تھے آپ نے فرمایا: تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں اور تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ بن جابر کیا میں تمہیں قرآن میں موجود سب سے زیادہ بہتر سورت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم الحمدللہ رب العالمین پڑھو! یہاں تک کہ آپ نے پوری سورت کو پڑھ لیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ فَقُلْتُ السَّلامُ عَلَيْكَ ← وعن جابر
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10807
حضرت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزر رہا تھا آپ نے ایک شخص کو تہجد کی نماز میں سورت فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے آپ غور سے تلاوت سنتے رہے اس شخص نے اس سورت کو مکمل پڑھ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” قرآن میں اس جیسی (کوئی اور سورت)نہیں ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے، اور وہ ضعیف ہے ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10808
عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں:انہیں ان صاحب نے یہ بات بتائی ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: آپ اس وقت وادی قریٰ میں موجود تھے آپ اس وقت اپنے گھوڑے پر سوار تھے بلقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ سے سوال کیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جن پر غضب نازل ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی طرف اشارہ کیا اس نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گمراہ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد عیسائی لوگ تھے پھر ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: آپ کے فلاں غلام نے جام شہادت نوش کر لیا ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کوشک ہے لیکن مفہوم یہی ہے)تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں! بلکہ اسے اس کی وجہ سے گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا جوعباء اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10809
ایک روایت جو اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس میں یہ مذکور ہے : بلقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ سے سوال کیا اس نے عرض کی : یارسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں جن پر غضب نازل کیا گیا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کی طرف اشارہ کیا .... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔ یہ پوری روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10810
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لفظ ’’مالک یوم الدین ‘‘یعنی الف کے ساتھ اسے پڑھا اور غیر المغضوب علیہم پڑھا ’’یعنی یہ زیر کے ساتھ ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی فیاض بن غزوان ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کے علاوہ راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10811
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : (ارشاد باری تعالیٰ ہے:)”تحقیق ہم نے تمہیں دو مرتبہ پڑھی جانے والی سات آیات عطا کی ہیں‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد سورت فاتحہ ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابو سعید بقال ہے ، اور وہ مدلس ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10812
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جب سورت فاتحہ نازل ہوئی تھی اس وقت ابلیس رویا تھا یہ سورت مدینہ منور میں نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ مرفوع روایت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10813
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں پر سورت فاتحہ کی پانچ آیات لکھی ہوئی ہوتی ہیں‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید ہے ، جسے ابو حاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے متروک قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10814
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص سورت فاتحہ اور سورت اخلاص پڑھ لیتا ہے وہ گویا ایک تہائی قرآن پڑھ لیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن احمد واسطی ہے ، اور وہ متروک ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Chapter What came in the name of God, the Most Gracious, the Most Merciful, and Leader of the Book] · Hadith 10815