مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الدِّيَاتِ] ‹ [بَابُ الدِّيَاتِ فِي الْأَعْضَاءِ وَغَيْرِهَا.] · حديث 10785
10785 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دِيَةِ الْجَنِينِ إِذَا كَانَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَضَى بِذَلِكَ فِي امْرَأَةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيِّ. وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کی دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا جب وہ ماں کے پیٹ میں موجود ہو (اور اسی دوران مر جائے)تو اس میں جرمانے کے طور پر ایک غلام یا کنیز دی جائے گی آپ نے حضرت حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا ہے: ’’اسلام میں شغار کی کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of blood money] › [Chapter of blood money in the members and other things.] · Hadith 10785
