مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الدِّيَاتِ] ‹ [بَابٌ فِي مَنْ أَمِنَهُ أَحَدٌ عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ] · حديث 10713
10713 - عَنْ رِفَاعَةَ أَنَّ صَاحِبًا لَهُ قَالَ: لَوِ انْطَلَقْنَا إِلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ; فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى نَصْرِ أَهْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْطَلَقْنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَهْوِي إِلَيْهِ فِي الْخَوَرْنَقِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ سَيْفًا، فَدَعَا بِسَيْفٍ فِي عِلَاقٍ عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ أَسْرَاجٍ، وَانْتَضَى السَّيْفَ فَجَرَى الْخَاتَمُ إِلَى أَدْنَاهُ ثُمَّ رَجَعَ الْخَاتَمُ إِلَى قَائِمِ السَّيْفِ، فَأَخَذَهُ فَجَعَلَهُ فِي إِصْبَعِهِ، فَقُلْتُ: سَاحِرٌ وَاللَّهِ، فَأَهْوَيْتُ إِلَى قَائِمِ السَّيْفِ فَذَكَرْتُ كَلِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ فَلَا تَقْتُلْهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ وَهُوَ وَهْمٌ، وَالصَّوَابُ مَا رَوَاهُ السُّدِّيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ رِفَاعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَارِثِيُّ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ، عَنْ رِفَاعَةَ، فَوَهِمَ فِي إِسْنَادِهِ، وَهُوَ هَذَا الْآتِي.
رفاعہ قتبانی بیان کرتے ہیں:ان کے ایک ساتھی نے کہا: اگر ہم مختار بن ابو عبید کے پاس جائیں تو یہ مناسب ہو گا کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کی مدد کرنے کی طرف دعوت دے رہا ہے ہم لوگ وہاں گئے خورنق (نامی محل)میں ، اس کے پاس آئے ، وہ بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کیا میں تم لوگوں کو تلوار نہ دکھاؤں پھر اس نے ایک تلوار منگوائی جو ایک میان میں تھی اور اس پر تین تہیں تھیں ، اس نے میان میں سے تلوار نکالی تو انگوٹھی چل کر اس کے پاس آئی، پھر وہ چل کر تلوار کی میان کی طرف گئی اس نے وہ لی اور اسے اپنی انگلی میں ڈال دیا میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو جادوگر ہے میں تلوار کے قبضے کی طرف جھکا لیکن پھر مجھے حضرت سلیمان بن مسہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات یاد آ گئی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے نقل کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کوئی شخص تمہیں امان دیدے تو تم اسے قتل نہ کرو‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : ابو مسہر نے حضرت سلیمان بن مسہر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے اس روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے اور یہ وہم ہے درست روایت وہ ہے جو سدی اور دیگر حضرات نے رفاعہ کے حوالے سے حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے اسے عبداللہ بن میسر ہ حارثی واسطی کے حوالے سے ابو عکاشہ کے حوالے سے رفاعہ سے نقل گیا ہے انہیں اس کی سند میں وہم ہوا ہے اور وہ روایت آگے آ رہی ہے۔
رفاعة
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of blood money] › [A door on whom someone believed by his blood and killed him] · Hadith 10713
