مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ] ‹ [بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّعْذِيبِ بِالنَّارِ] · حديث 10508
10508 - «عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: كُنْتُ آتِي أُمَّ الدَّرْدَاءِ، فَأَكْتُبُ عِنْدَهَا، فَأَخَذْتُ قَمْلَةً (أَوْ بُرْغُوثًا) فَأَلْقَيْتُهُ فِي النَّارِ، قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، لَا تَفْعَلْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " لَا يُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ: " «لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ» ". وَفِيهِ سَعِيدٌ الْبَرَّادُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي تَحْرِيقِ الْقَاتِلِ بَعْدَ قَتْلِهِ.
عثمان بن حیان بیان کرتے ہیں:)میں سیدہ اُم درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آتا تھا اور ان کے پاس بیٹھ کر (احادیث)نوٹ کرتا تھا ایک مرتبہ میں نے ایک جوؤں یا پسو کو پکڑا اور اسے آگ میں ڈال دیا تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! تم ایسانہ کرو کیونکہ میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: وہ کہتے ہیں:)میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” (کسی کو بھی)اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح کا عذاب نہیں دیا جائے گا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:)’’ آگ کے ذریعے عذاب صرف آگ کا پروردگار دے سکتا ہے‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید البراد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ آگے چل کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں منقول حدیث آئے گی جس میں یہ مذکور ہے کہ انہوں نے قاتل کو قتل کرنے کے بعدا سے جلوا دیا تھا۔
عُثمَان بْنِ حَيَّانَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hudud and Diyat al-Diyyat] › [Chapter forbidding torture by fire] · Hadith 10508
