مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ] · حديث 10652
10652 - وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ;أَنَّ ابْنَ مُقَرِّنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَنَامَ عَلَى فِرَاشٍ سَنَةً؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة: 87]. كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَنَمْ عَلَى فِرَاشِكَ، قَالَ: إِنِّي مُوسِرٌ؟ قَالَ: أَعْتِقْ رَقَبَةً. قَالَ: عَبْدِي سَرَقَ قِبَاءً مِنْ عِنْدِي؟ قَالَ: مَالُكَ سَرَقَ بَعْضُهُ مِنْ بَعْضٍ - أَيْ لَا قَطْعَ عَلَيْهِ - قَالَ: أَمَتِي زَنَتْ؟ قَالَ: اجْلِدْهَا، قَالَ: إِنَّهَا لَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: إِسْلَامُهَا إِحْصَانُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ هَذَا وَغَيْرِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں:)ابن مقرن نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰن ! میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ میں ایک سال تک اپنے بستر پر نہیں سوؤں گا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت ”اے ایمان والو! ان پاکیزہ حلال چیزوں کو حرام قرار نہ دو جواللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہیں ، اور تم حد سے تجاوز نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ (اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:)تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اپنے بستر پر سوجاؤ انہوں نے کہا: میں خوشحال شخص ہوں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم غلام آزاد کر دو انہوں نے کہا: میرے غلام نے میرے پاس قبا چوری کر لی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تمہارے مال کے ایک حصے نے دوسرے کو چوری کر لیا ہے ان کی مراد یہ تھی کہ اس کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جا سکتی ابن مقرن نے کہا: میری کنیز نے زنا کیا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تم اسے کوڑے لگاؤ انہوں نے کہا: وہ محصنہ نہیں ہے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کا اسلام اس کا احسان ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے، اور اس کے رجال اور دیگر روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hudud and Diyat al-Diyyat] › [Chapter of what came in theft, and that which is not cut into it] · Hadith 10652
