ابو صخر عقیلی بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے مجھے بتایا کہ میں دودھ دوہ کر مدینہ منورہ لے کر گیا‘ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی بات ہے‘ جب میں اس کو فروخت کر کے فارغ ہوا‘ تو میں نے سوچا مجھے ان صاحب سے ملنا چاہیے اور مجھے ان کی بات سننی چاہئے تو میرا سامنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے ہوا‘ آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے‘ میں ان حضرات کے پیچھے چل پڑا‘ یہ حضرات یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس آئے‘ جس نے تورات کو کھولا ہوا تھا اور اسے پڑھ رہا تھا اور وہ اپنے لڑکے کے سرہانے اسے پڑھ رہا تھا‘ جو (لڑکا) مرنے کے قریب تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں‘ جس نے تو رات کو نازل کیا ہے‘ کیا تم اپنی کتاب میں میرا حليہ اور میری بعثت کے بارے میں چیز پاتے ہو؟ تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا: کہ جی نہیں! تو اس کے بیٹے نے (جو قریب المرگ تھا) یہ کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے تو رات کو نازل کیا ہے‘ ہم اپنی کتابوں میں آپ کا حلیہ اور آپ کی بعثت کا بارے میں ذکر پاتے ہیں‘ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور آپ اللہ کے رسول ہیں (پھر اس لڑکے کا انتقال ہو گیا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کو یہودیوں سے لے لو! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا‘ اسے خوشبو لگائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یہ روایت امام احمد نقل کی ہے‘ اور ابو صخر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں‘ اس روایت کے بقیہ جال’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13891
حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی میرےپاس سے گزرا‘ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے‘ اس نے کہا: تم ان کی پشت سے کپڑ اہٹاؤ‘ راوی کہتے ہیں : میں آپ کی پشت سے کپڑا ہٹانے لگا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے منہ پر پانی چھڑک دیا۔یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13892
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کرتے ہیں : جرمقانی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے پاس آیا اور بولا: تمہارے وہ آقا کہاں ہیں؟ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں‘ میں ان سے سوال کروں گا اور پھر پتہ چل جائے گا کہ وہ نبی ہیں‘ یا نبی نہیں ہیں ؟ راوی کہتے ہیں: پھر اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے‘ تو جرمقانی نے کہا: آپ میرے سامنے تلاوت کیجئے‘ یا میرے سامنے بیان کیجئے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سامنے الله کی کتاب کی کچھ آیات تلاوت کیں‘ تو جرمقانی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ وہی چیز ہے‘ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے۔یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے‘ وہ کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے۔میں یہ کہتا ہوں : اس میں ایوب بن جابر کے علاوہ اور کوئی (غیرمستند راوی) نہیں ہے‘ اور اسے بھی امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے‘ جبکہ یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات اسے ضعیف کہا ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13893
سعید بن ابو راشد بیان کرتے ہیں : ’’حمص‘‘ میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی‘ جو ہرقل کےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قاصد تھے وہ صاحب میرے پڑوسی تھے اور ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص تھے‘ میں نے کہا: کیا آپ مجھے ہرقل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجے گئے‘ مکتوب اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہرقل کی طرف بھیجے گئے مکتوب کے بارے میں نہیں بتائیں گے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک تشریف لائے‘ آپ نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہرقل کی طرف بھیجا‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکتوب اس کے پاس آیا‘ تو اس نے روم کے پادریوں اور سرداروں کو بلایا اور اپنے لئے اور ان کے لئے دروازہ بند کروا دیا۔ پھر اس نے کہا: یہ شخص آیا ہے‘ جس کو تم دیکھ رہے ہو (یادہ صاحب مبعوث ہوتے ہیں‘ جن کے بارے میں تمہیں پتہ چلا ہے) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا ہے‘ اور تین چیزوں کی دعوت دی ہے‘ انہوں نے اس بات کی دعوت دی ہے کہ میں ان کے دین کے حوالے سے ان کی پیروی کر لوں‘ یا پھر یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے میں رہیں اور ان کو فدیہ ادا کرتے رہیں‘ یا پھر یہ ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کر لیں‘ اللہ کی قسم ! تم لوگ جو کتابیں پڑھتے رہے ہو‘ اس کے حوالے سے تم لوگوں کو اس بات کی معرفت حاصل ہے کہ وہ میرے قدموں کے نیچے کی جگہ (یعنی میری سلطنت) پر بھی قبضہ کر لیں گے‘ تو یا تو ہم ان کے دین کی پیروی کر لیتے ہیں‘ یا پھر یہ ہےکہ ہم اپنے علاقے میں رہتے ہیں اور انہیں فدیہ دے دیتے ہیں‘ تو وہ سب لوگ ایک دم غصے میں آ گئے‘ انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتار دیں اور بولے : کیا تم میں اس بات کی دعوت دے رہے ہو کہ ہم عیسائیت کو چھوڑ دیں ؟ اور ہم حجاز سے آئے ہوئے ایک دیہاتی کے غلام بن جائیں؟جب ہرقل نے محسوس کیا کہ وہ لوگ اسے چھوڑ کے چلے جائیں گے اور ان کا ساتھ خراب ہو جائے گا اور اس کی بادشاہی کو نقصان ہو گا‘ تو اس نے کہا: میں نے یہ بات تم سے اس لئے کی تھی‘ تاکہ تمہارے دین کے بارے میں تمہاری مضبوطی کو جان سکوں پھر اس نے عربوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلایا‘ جوعرب عیسائیوں کا حکمران تھا‘ اس نے کہا: تم میرے پاس کسی ایسے شخص کو لے کر آؤ! جو بات کو اچھی طرح یاد رکھتا ہو اورعربی زبان جانتا ہو‘ تاکہ میں اس سے ان صاحب کی طرف ان کے جوابی مکتوب کے ہمراہ بھیجوں‘ تو اس شخص نے مجھے بلوایا‘ ہرقل نے جوابی مکتوب میرے حوالے کیا‘ اور بولا: میرا یہ مکتوب لے کر ان صاحب کے پاس جاؤ‘ اور ان کی کوئی بات بھولنا نہیں‘ خاص طور پر تین چیزیں‘ ان کے حوالے سے یاد رکھنا‘ تم اس بات کا جائزہ لینا کہ انہوں نے جو مکتوب بھیجا تھا‘ اس حوالے سے وہ کسی چیز کا ذکر کرتے ہیں؟ اور اس بات کا جائزہ لینا کہ جب وہ میر امکتوب پڑھتے ہیں‘ تو کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ رات کا ذکر کرتے ہیں؟ اور تم ان کی پشت کا جائزہ لینا کہ کیا وہاں کوئی ایسی چیز ہے‘ جو ہمیں شک میں مبتلا کرتی ہو؟ راوی کہتے ہیں : میں اس کا مکتوب لے کر تبوک آ گیا :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان ’’احتباء‘‘ کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے‘ وہ لوگ ایک پانی کے پاس موجود تھے‘ میں نے دریافت کیا: تمہارے آقا کہاں ہیں؟ تو بتایا گیا: کہ وہ یہ ہیں‘ میں چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا‘ میں نے اپنے پاس موجود مکتوب ان کی طرف بڑھایا‘ تو انہوں نے اسے اپنی گود میں رکھ لیا اور پھر دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے جواب دیا: میں تنوخ سے تعلق رکھتا ہوں‘ انہوں نے دریافت کیا : کیا تم صحیح دین کو قبول کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو؟ جو تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے‘ میں نے کہا: میں ایک قوم کا نمائندہ ہوں اور ایک قوم کے دین پر گامزن ہوں‘ میں اس سے اس وقت تک رجوع نہیں کروں گا‘ جب تک ان لوگوں کے پاس واپس نہیں چلا جاتا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے‘ آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’بے شک تم جسے چاہتے ہو‘ اسے ہدایت نہیں دیتے‘ بلکہ الله تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے‘ جسے وہ چاہتا ہے‘ اور وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے‘‘۔ پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے تنوخ سے تعلق رکھنے والے فرد! میں نے کسریٰ کی طرف ایک مکتوب بھیجا‘ اس نے اسے پھاڑ دیا‘ الله تعالیٰ اسے اور اس کی حکومت کو پھاڑ دے گا‘ میں نے نجاشی کی طرف ایک مکتوب بھیجا‘ اس نے اسے پچھاڑ دیا‘ اللہ تعالیٰ اُسے اور اس کی حکومت کو پھاڑ دے گا‘ میں نے تمہارے حکمران کی طرف ایک مکتوب بھیجا‘ اس نے اسے سنبھال کے رکھا‘ تو لوگ مسلسل ایسی حالت میں رہیں گے کہ انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی جب تک وہ رہے گا‘ یہ لوگ بہتر رہیں گے‘ راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا میرے حکمران نے مجھے تلقین کی تھی ان میں سے ایک بات تو سامنے آ گئی ہے‘ میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اپنی تلوار کے چمڑے پر یہ بات نوٹ کر لی‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مکتوب اپنے بائیں طرف موجود ایک شخص کی طرف بڑھایا‘ میں نے دریافت کیا یہ صاحب کون ہیں؟ جو تمہارے لئے اس مکتوب کو پڑھیں گے‘ تو لوگوں نے بتایا: یہ محاویہ ہیں‘ میرے حکمران نے جو لکھا تھا‘ اس میں یہ بات مذکور تھی : آپ جنت کے بارے میں دعوت دیتے ہیں‘ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے جو پرہیز لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے‘ تو پھر جہنم کہاں ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! جب دن آ جاتا ہے‘ تو رات کہاں ہوتی ہے؟ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنی تلوار کے چمڑے پر یہ بات نوٹ کر لی‘ جب وہ صاحب میرے مکتوب کو پڑھ کر فارغ ہوئے‘ تو انہوں نے کہا: تمہارا ایک حق ہے کہ تم ایک قاصد ہو‘ اگرتم ہمارے پاس اہتمام کے طور پر‘ کوئی چیز پاتے تو ہم نے وہ تمہیں کھلانی تھی‘ لیکن ہم خود سفر کر رہے ہیں‘ راوی کہتے ہیں‘ تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں کہا: میں اسے کوئی تحفہ دیتا ہوں‘ پھر اس نے اپنے پالان کو کھولا اور ایک صفوری حلہ لے کر آیا اور وہ میری گود میں رکھ دیا‘ میں نے دریافت کیا: یہ حلہ دینے والے صاحب کون ہیں ؟ تو بتایا گیا: یہ صاحب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: کون شخص اس کی مہمان نوازی کرے گا؟ تو ایک انصاری نوجوان بولا: میں کروں گا‘ وہ انصاری اٹھ کھڑا ہوا‘ اس کے ساتھ میں بھی اٹھ گیا‘ جب میں اس محفل سے اٹھا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلند آواز میں مخاطب کر کے فرمایا: اے تنوخ سے تعلق رکھنے والے فرد! آگے آؤ! میں آیا اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھا‘ یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس جگہ پر کھڑا ہو گیا‘ جہاں پہلے بیٹھا ہوا تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پشت پر بندھے ہوئے کپڑے کو کھولا اور فرمایا: اس حوالے سے‘ جو تمہیں حکم دیا گیا تھا‘ اس کو بھی پورا کر لو‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے مخصوص مقام پر ’’مہر نبو‘‘موجود تھی‘ جو ایک بڑے بٹن کی مانند تھی۔یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اور امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے‘ اور ابو یعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں‘ اور عبد اللہ بن احمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں۔
سعيد بن أبي راشد
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13894
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک مکتوب دےکر قیصر کے پاس بھیجا‘ جب میں اس کے پاس آیا‘ اور میں نے اسے مکتوب دیا‘ تو اس وقت اس کے پاس اس کا ایک بھتیجا موجود تھا‘ جو سرخ رنگت کا‘ نیلی آنکھوں کاما لک تھا‘ اس کے سر کے بال بالکل سیدھے تھے‘ جب اس نے مکتوب پڑھنا شروع کیا‘ تو اس میں یہ تحریر تھا: ’’یہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے‘ روم کے متعلقہ فرد‘ ہرقل کے نام ہے‘‘ راوی کہتے ہیں: تو اس کا بھتیجا غصے میں آ گیا اور بولا : اس کو آج نہیں پڑھا جائے گا'‘ قیصر نے اس سے دریافت کیا: وہ کیوں اس نے کہا: ایک بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کا ذکر کر کے آغاز کیا ہے دوسرا یہ کہ انہوں نے لکھا ہے روم کے متعلقہ فرد انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ روم کے بادشاہ تو قیصر نے کہا: تم اسے پڑھو جب اس نے اس مکتوب کو پڑھا تو وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے اس نے مجھے اپنے پاس بلوایا اور ایک پادری کو بلوایا جو ان کے معاملے سے متعلقہ فرد تھا‘ اس نے اس بارے میں اس پادری کو بتایا اور اسے وہ خط پڑھایا‘ تو اس پادری نے اس سے کہا یہ وہی صاحب ہیں‘ جن کا ہم انتظار کر رہے تھے‘ اور جن کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی‘ قیصر نے اس سے کہا: تم اس بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہو؟ پادری نے اس سے کہا جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے‘ تو میں ان کی تصدیق کروں گا اور ان کی پیروی کروں گا‘ قیصر نے اس سے کہا لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے‘ تو اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو میری حکومت ختم ہو جائے گی‘ پھر ہم اس کے پاس سے اٹھ کے آ گئے قیصر نے ابو سفیان کو پیغام بھیجا جو ان دنوں وہاں ہی تھے۔اس نے کہا: آپ مجھے ان صاحب کے بارے میں بتائیے جو آپ کے علاقے میں مبعوث ہوئے ہیں‘ وہ کون ہیں‘ ابو سفیان نے بتایا وہ ایک نوجوان ہیں‘ اس نے دریافت کیا: آپ لوگوں کے درمیان ان کا حسب نسب کیا ہے‘ ابو سفیان نے بتایا کہ وہ حسب نسب کے اعتبار سے ایسے ہیں کہ کوئی ان پر فضیلت نہیں رکھتا قیصر نے کہا: یہ نبوت کی ایک نشانی ہے‘ اس نے دریافت کیا: ان کی سچائی کیسی ہے‘ ابو سفیان نے کہا: انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے‘ پھر قیصر نے دریافت کیا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ تمہاری ساتھیوں میں سے جو نکل کر ان کی طرف گیا ہو‘ کیا وہ تمہاری طرف واپس بھی آ جاتا ہے؟ ابو سفیان نے کہا: جی نہیں‘ تو قیصر نے کہا: یہ موت کی نشانی ہے پھر اس نے کہا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ ان کے ساتھیوں میں سے کوئی نکل کر تمہاری طرف آ جائے تو وہ لوگ ان کی طرف واپس چلے جاتے ہیں‘ ابو سفیان نے جواب دیا: جی ہاں‘ تو قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے پھر قیصر نے دریافت کیا : کیا کبھی ایسا بھی ہو‘ اانہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے لڑائی کی ہو تو ابو سفیان نے بتایا کہ ان کے مخالفین نے ان کے ساتھ لڑائی کی‘ کبھی انہوں نے اپنی مخالفین کو پسپا کر دیا‘ اور کبھی ان کے مخالفین نے انہیں پسپا کر دیا‘ قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے‘ راوی بیان کرتے ہیں: پھر قیصر نے مجھے بلایا اور بولا: تم اپنے آقا تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم پہچان گئے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں‘ لیکن میں اپنی حکومت نہیں چھوڑ سکتا۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک اس پادری کا تعلق ہے‘ تو اس کا یہ معاملہ تھا‘ لوگ ہر ہفتے میں ایک دن اس کے پاس اکٹھے ہوتے تھے‘ وہ نکل کر ان کے پاس آتا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا‘ انہیں وعظ نصیحت کرتا تھا‘ جب ہفتے کا دن آیا تو وہ اس مرتبہ نکل کر ان کے پاس نہیں آیا اور اگلا ہفتہ آنے تک وہ اپنی جگہ پر موجود رہا‘ میں اس کے پاس جاتا تھا‘ وہ میرے ساتھ بات چیت کرتا تھا‘ وہ میرے ساتھ سوال و جواب کرتا تھا‘ جب اگلے ہفتے کا دن آیا اور لوگ انتظار کر رہے تھے کہ وہ نکل کر ان کے پاس آئے گا‘ تو وہ نکل کر ان کے پاس نہیں گیا اور ان کے سامنے یہ عذر پیش کیا کہ وہ بیمار ہے‘ ایسا چند مرتبہ ہوا‘ تو ان لوگوں نے اسے پیغام بھیجا کہ یا تو تم نکل کر ہمارے پاس آ جاؤ! اور نہ ہم اندر تمہارے پاس آ کر تمہیں قتل کر دیں گے‘ کیونکہ جب سے یہ عربی شخص آیا ہے ہمیں تمہاری صورت حال بدلی ہوئی محسوس ہو رہی‘ ہے تو اس پادری نے مجھ سے کہا: تم یہ مکتوب لو اور اسے لے کر اپنے آقا کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کہنا اور انہیں یہ بتانا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں‘ میں ان پر ایمان لاتا ہوں‘ ان کی تصدیق کرتا ہوں‘ ان کی پیروی کرتا ہوں‘ لیکن یہ لوگ میری اس بات کی پیروی نہیں کریں گے‘ تو تم جو صورت حال دیکھو گے‘ اس کے بارے میں انہیں بتا دینا‘ پھر وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس گیا اور ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا۔پھر حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آ گئے‘ اس وقت صنعاء میں موجود کسریٰ کے مقرر کردہ گورنر کے نمائندے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے‘ آپ نے ان لوگوں کو کسریٰ کی طرف بھیجا تھا اور اس نے صنعاء کے گورنر کو خط لکھا تھا‘ جس میں اس سے یہ کہا تھا کہ تم ان صاحب پر قابو پا لو‘ جو تمہاری سرزمین پر مبعوث ہوئے ہیں اور مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دے رہے ہیں کہ یا تو میں ان کا دین قبول کر لوں یا جزیہ دے دوں‘ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا‘ یا میں تمہیں یہ کروں گا‘ توصنعاء کے گورنر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پندرہ افراد بھیجے‘ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان افراد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پایا تھا‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے آقا کا مکتوب پڑھا‘ تو آپ نے پندرہ دن انہیں ایسے ہی رہنے دیا‘ جب پندرہ دن گزر گئے‘ تو ایک رات آپ ان کے پاس آئے‘ جب آپ نے انہیں ملاحظہ کیا تو انہیں بلایا اور ارشاد فرمایا: تم اپنے آقا(یعنی صنعاء کے گورنر) کے پاس جا وا اور اس سے یہ کہو کہ میرے پروردگار نے گزشتہ رات اس کے آقا(یعنی کسریٰ) کو قتل کر دیا ہے‘ وہ لوگ گئے اور اس بارے میں اس گورنر کو بتایا‘ تو اس نے کہا: تم لوگ اس رات کا حساب لگا کہ وہ کون سی رات تھی ؟ اس نے یہ بھی کہا: کہ تم لوگ بتاؤ کہ تم نے ان کو کیسا پایا؟ تو ان لوگوں نے بتایا: کہ ہم نے ان سے زیادہ ہیبت ناک (یعنی ہارعب) کوئی بادشاہ نہیں دیکھا‘ وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں اور انہیں کسی سے کوئی خوف نہیں ہوتا‘ وہ عام سی حالت میں رہتے ہیں‘ ان کی حفاظت نہیں کی جاتی‘ لیکن ان کے پاس آواز بھی بلند نہیں کی جاتی ‘ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر یہ اطلاع آ گئی کہ اس رات کسریٰ قتل ہو گیا تھا۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بنی یحییٰ ہےاور وہ ضعیف ہے۔
دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13895
علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا گیا‘ میں ان لوگوں کا امیر تھا‘ ہم نے اسکندریہ کے مقام پر پڑاؤ کیا تو دشمن کے ایک بڑے فرد نے یہ کہا: کسی شخص کو میرے پاس بھیجو‘ تاکہ میں اس کے ساتھ بات چیت کروں اور وہ میرے ساتھ بات کرے(حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں :) تو میں نے کہا: میرے علاوہ اور کوئی اس کی طرف نہیں جائے گا‘ تو میں اس کے قاصد کے ہمراہ نکلا‘ یہاں تک کہ ہمارے لئے دو منبر رکھے گئے‘ اس نے دریافت کیا: تم لوگ کون ہو؟ میں نے جواب دیا : ہم عرب ہیں‘ ہم کانوں اور پتوں میں رہنے والے لوگ ہیں‘ ہم اللہ کے گھر کے پاس رہنے والے لوگ ہیں‘ ہم روئے زمین پر سب سے زیادہ تنگی کا شکار لوگ تھے‘ اور ہماری زندگی سب سے زیادہ مشکل تھی‘ اہم مردار اور خون کھا لیا کرتے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جایا کرتے تھے‘ ہم اس سب سے برے طریقے سے زندہ رہے تھے‘ جس کے ساتھ لوگ رہ سکتے ہیں‘ یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا‘ جو نہ تو معاشرتی طور پر سب سے زیادہ نمایاں حیثیت کے مالک تھے‘ اور نہ ہی سب سے زیادہ مال دار تھے‘ انہوں نے کہا : میں تم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں‘ انہوں نے ہمیں ایسی باتوں کا حکم دیا‘ جن سے ہم واقف نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ایسی چیزوں سے منع کیا جن پر عمل پیرا تھے‘ اور ہمارے آباؤ اجداد ان پرعمل پیرا تھے‘ تو ہم نے ان کی مخالفت کی‘ ان کی تکذیب کی‘ ان کی بات کو مسترد کیا۔یہاں تک کہ ہمارے علاوہ‘ ایک اور قوم ان کے پاس آئی اور اس قوم کے لوگوں نے کہا: کہ ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کی پیروی کرتے ہیں‘ جو شخص آپ کے ساتھ لڑائی کرے گا‘ ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے‘ تو وہ صاحب ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے‘ پھر ہم ان کے پیچھے گئے‘ ہم نے ان کے ساتھ لڑائی کی‘ تو وہ ہم پر غالب آ گئے اور پھر انہوں نے عربوں کے دیگر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے لڑائی کی‘ یہاں تک کہ وہ ان پر بھی غالب آ گئے‘ اگر میرے پیچھے موجود عرب لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ تم لوگ کس طرح کی خوشحال زندگی گزار رہے ہو‘ تو وہ سب لوگ تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم لوگ جس خوشحال زندگی کو بسر کر رہے ہو‘ وہ اس میں تمہارے حصے دار بن جائیں گے۔تو دشمن کا امیر ہنس پڑا اور بولا: بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا ہے‘ ہمارے پاس بھی رسول اسی کی مانند تعلیمات لے کے آئے تھے‘ جو تمہارے رسول لے کے آئے ہیں‘ اور ہمارے بڑے ان تعلیمات پر عمل پیرا رہے‘ یہاں تک کہ ہمارے درمیان کچھ لوگ آئے‘ جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پرعمل کرنا شروع کر دیا اور انبیاء کے علم کو ترک کر دیا‘ جب تک تم لوگ اپنے نبی کے حکم پر عمل پیرا رہو گے‘ جو بھی تمہارے مقابلے میں آئے گا‘ تم اس پر غالب آ جاؤ گے اور جو بھی تمہارے سامنے آئے گا‘ تم اس پر غلبہ پا لو گے اور جب تم لوگ اس طرح کے کام کرو گے‘ جس طرح کے ہم نے کیے اور تم لوگ اپنے نبی کے علم کو ترک کر دو گے اور اس کی مانند عمل کرو گے جو ان لوگوں نے عمل کیا جو اپنی نفسانی خواہشات پرعمل کرتے تھے‘ تو پھر تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ تم تعداد میں ہم سے زیادہ نہیں ہو‘ اور قوت میں ہم سے زیادہ مضبوط نہیں ہو۔حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اس سے زیادہ سمجھ دار‘ کسی شخص سے بات نہیں کی۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح‘‘ کے ہیں‘ صرف عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے‘ اور وہ راوی ثقہ ہے۔
أميرهم حتى نزلنا الإسكندرية ← عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أُخْرِجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13896
حضرت کرز بن علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نجران کے عیسائیوں کا وفد‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اس وفد میں ان کے چوبیسں سر کردہ افراد تھے‘ اور ان چوبیس افراد میں سے تین افراد ایسے تھے‘ جن کی طرف ان لوگوں کے معاملات میں رجوع کیا جاتا تھا‘ ان میں سے ایک ’’عاقب‘‘ نام کا شخص تھا‘ جو ان لوگوں کا امیر تھا اور ان کا تجربہ کار آدمی اور مشورہ دینے والا فرد تھا‘ وہ لوگ اس کی رائے اور اس کے علم سے عدول نہیں کرتے تھے‘ اس کا نام عبدا لمسیح تھا‘ ایک شخص کا نام ’’سید‘‘ تھا وہ ان کا عالم تھا اور ان کے امور کا نگران تھا‘ ایک شخص ’’ابو حارثہ بن علقمہ‘‘ تھا‘ جوبکر بن وائل سے تعلق رکھتا تھا‘ وہ ان کا پادری ان کا بڑا عالم اور ان کا پیشوا اور ان کے درس و تدریس کے امور کا نگران تھا‘ ابو حارثہ کوان کے درمیان نمایاں حیثیت حاصل تھی‘ ان لوگوں کے دین کے بارے میں وہ بھر پور عالم تھا‘ عیسائیوں کے بادشاہ اسے عزت دیتے تھے‘ اس کی بات کوقبول کرتے تھے‘ ان لوگوں نے اس کے لئے عبادت خانے تعمیر کیے تھے‘ اور دین میں اس کی بھر پور کوشش کی وجہ سے اسے بہت سے اعزاز و احترام سے نوازا تھا۔جب یہ لوگ نجران سے چل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوئے‘ تو ابو حارث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جانے کے لئے اپنے خچر پر بیٹھا‘ اس کے پہلو میں اس کا بھائی تھا‘ جس کا نام ’’کرز بن علقمہ‘‘ تھا وہ اس سے بات چیت کر رہا تھا‘ اسی دوران ابو حارثہ کے خچر کو ٹھوکر لگ گئی‘ تو کرز نے کہا: دور کا شخص‘ برباد ہو جائے‘ اس کی مراد‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے‘ تو ابو حارثہ نے کہا: بلکہ تم برباد ہو جاؤ! کرز نے دریافت کیا : وہ کیوں اے بھائی جان؟ اس نے کہا: الله کی قسم ! یہ وہی نبی ہیں‘ جن کا ہم انتظار کر رہےتھے‘ کرزنے اس سے دریافت کیا: جب تم یہ بات جانتے ہو‘ تو پھر تمہارے لئے رکاوٹ کیا ہے ؟ اس نے کہا: رکاوٹ یہ ہے کہ جو ان (عیسائی) لوگوں نے ہمارے ساتھ سلوک کیا ہوا ہے‘ ان لوگوں نے ہمیں عزت دی ہے‘ یہ لوگ ہمارا احترام کرتے ہیں اور یہ لوگ اس بات کو نہیں مانیں گے کہ ہم ان (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کریں‘ اگر میں ایسا کر لیتا ہوں‘ تو وہ مجھ سے ہر وہ چیز لے لیں گے‘ جو تم دیکھ رہے ہو۔تو اس کے بھائی کرز بن علقمہ نے اس حوالے سے یہ بات پوشیدہ رکھی‘ راوی کہتے ہیں: یعنی انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔یہ روایت امام طبرانی نے بھی اوسط میں نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی بریدہ بن سفیان ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13897
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ کیا‘ تو زید بن سعنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: نبوت کی علامات سے متعلق جو بھی چیز ہے‘ وہ مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں پتہ چل گئی‘ جب میں نے ان کی طرف دیکھا تھا‘ البتہ دو چیزوں کا معاملہ مختلف ہے‘ ان کے حوالے سے میں انہیں آزما لیتا ہوں‘ ایک یہ کہ ان کی بردباری ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی‘ اور ان کے خلاف جتنی شدت کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی‘ وہ اتنے ہی زیادہ بردبار ہوں گے تو میں ان کے ساتھ رہنے لگا‘ تاکہ ان کے ساتھ گل مل کے سختی کے مقابلے میں‘ ان کی بردباری کا جائزہ لوں‘ زید بن سعنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجروں سے تشریف لائے‘ آپ کے ساتھ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے‘ ایک شخص سواری پر سوار ہو کے آپ کے پاس آیا‘ وہ بدوی لگ رہا تھا‘ اس نے کہا: یا رسول الله! بنوفلاں کے علاقے میں‘ میرے ساتھی کچھ لوگ ہیں‘ وہ اسلام قبول کر چکے ہیں‘ وہ لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں‘ میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے‘ تو ان کے پاس بہت سا رزق آئے گا‘ لیکن انہیں‘ توقحط سالی اور مصیبت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے‘ اور بارش ہو نہیں رہی ہیں‘ یا رسول اللہ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ جس طرح لالچ کی بنیاد پر اسلام میں داخل ہوئے تھے‘ اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے نکل جائیں گے‘ تو اگر آپ مناسب سمجھیں کہ ان کی طرف کوئی چیز دیں‘ جس کے ذریعے آپ ان لوگوں کی مدد کر دیں‘ تو یہ مناسب ہو گا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پہلو میں موجود شخص کی طرف دیکھا‘ میرا خیال ہے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے‘ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ کوئی بھی چیز باقی نہیں ہے‘ زید بن سعنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا‘ میں نے کہا: اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ متعین مدت کے بعد بنو فلاں کے باغ میں لگنے والی متعین کھجوروں کے عوض میں میرے ساتھ سود ا کر لیں‘ اور اس کی مدت اتنی‘ اتنی ہو گی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں !اے یہودی ! میں تمہارے ساتھ کھجوروں کا سودا کروں گا‘ جو متعین ہوں گی اور اس کی مدت متعین ہو گی‘ جوفلاں مدت ہو گی‘ لیکن تم اس میں کسی مخصوص باغ کو تعین نہیں کر سکتے‘ میں نے کہا: ٹھیک ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ یہ سودا طے کیا‘ میں نے اپنی تھیلی کو کھولا اور اس میں سے متعین کھجوروں کے عوض میں متعین مدت کے معاہدے کے ساتھ‘ سونے کے اسّی مثقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدیے ‘نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مثقال ان صاحب کو دیے اور فرمایا: تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان کے ذریعے ان لوگوں کی مدد کرو۔حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب اس متعین مدت کے ختم ہونے میں دو یا تین دن باقی رہ گئے‘ تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نظر باہر نکلے‘ آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا‘ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور کچھ دیگر اصحاب تھے‘ آپ نے نماز جنازہ ادا کی‘ پھر آپ ایک دیوار کی طرف بڑھ گئے‘ تاکہ اس کے پاس بیٹھ جائیں‘ میں آپ کے پاس آیا‘ میں نے آپ کی قمیص کے گریبان اور آپ کی چادر کو پکڑا‘ اور سخت نظروں سے آپ کی طرف دیکھا اور آپ سے کہا: اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ میرا حق مجھے کیوں نہیں ادا کر رہے ہیں؟ آپ لوگوں‘ بنو عبد المطلب کے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں اور آپ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ کر مجھے اس بات کا پتہ چل چکا ہے‘ پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھا‘ تو ان کی آنکھیں ابل رہی تھیں‘ انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا: اے اللہ کے دشمن ! کیا تم اللہ کے رسول کو یہ بات کہہ رہے ہو؟ جو میں سن رہا ہوں‘ اور ان کے ساتھ یہ کر رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں‘ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے‘ اگر وہ چیز نہ ہوتی جس کے ضائع ہونے سے میں بچ رہا ہوں‘ تو میں نے اپنی تلوار کے ذریعے تمہارا سر اڑا دینا تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون اورنرمی کے ساتھ میری طرف دیکھتے رہے‘ آپ نے فرمایا: اے عمر! میں اور یہ‘ ہم اس کے علاوہ صورت حال کے بارے میں زیادہ محتاج ہیں‘ اور وہ یہ ہے کہ تم مجھ سے یہ کہو: کہ آپ اچھے طریقے سے ادائیگی کریں‘ اور تم اس کو یہ کہو: کہ یہ اچھے طریقے سے وصولی کرے‘ اور اے عمر !تم اسے لے جاؤ اسے اس کا حق دے دو‘ اور اسے کھجوروں کے بیس صارع زیادہ دینا‘ جو اس چیز کا بدلہ ہوں گے‘ جو تم نے اسے دھمکی دی ہے۔حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے ساتھ لے گئے‘ انہوں نے میرا حق مجھے ادا کیا اور کھجوروں کے مزید بیسں صاع مجھے دیے تو میں نے کہا: اے عمریہ اضافی ادائیگی کس لیے ہے؟ انہوں بتایا کہ اللہ کے رسول نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں نے جو تمہیں دھمکی دی تھی‘ اس کی جگہ میں تمہیں مزید ادائیگی کروں‘ تو حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اےعمر! کیا تم مجھے جانتے ہو؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: نہیں ! تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں زید بن سعنہ ہوں‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا: وہ جو یہودیوں کا بڑا عالم ہے؟ میں نے کہا: ہاں! یہودیوں کا بڑا عالم‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کیا؟ اور جو بات کہی تھی‘ اس طرح کی بات کیوں کی؟تو میں نے کہا: اے عمر! نبوت کی علامات سے متعلق ہر چیز میں الله کے رسول کے چہرے میں پہچان چکا تھا‘ جب میں نے نہیں دیکھا تھا‘ لیکن دو چیز یں باقی رہ گئی تھیں‘ جن کے بارے میں‘ میں ان کے حوالے سے تحقیق کرنا چاہتا تھا‘ وہ یہ کہ ان کی بردباری ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہوئی‘ اور ان کے سامنے جتنی زیادہ سختی کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی‘ ان کی بردباری اتنی ہی زیادہ ہو گی‘ تو اب میں نے ان دونوں چیزوں کو آزمایا ہے‘ اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں‘ اے عمر! کہ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے‘ اسلام کے دین ہونے‘ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں‘ اور میں آپ کو اس بات پر بھی گواہ بنا رہا ہوں کہ میرا نصف مال‘ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کے لئے صدقہ ہے‘ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم اس (مال) کا کچھ حصہ کر لو‘ تم اس کی گنجائش نہیں رکھو گے‘ میں نے کہا: یا پھر اس کا کچھ حصہ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘ تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمالے آئے اور آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے‘ پھر وہ غزوہ تبوک کے موقع پر دشمن کی طرف رُخ کر کے‘ پیٹھ پھیرے بغیر شہید ہوئے تھے‘ الله تعالیٰ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم کرے۔(علامہ ہیثمی فر ماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13898
حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میراتعلق فارس کے خوشحال لوگوں سے تھا‘ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے‘ جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں:’’میں مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا کچھ لوگوں کے پاس آیا‘ جو دیہاتی تھے انہوں نے مجھے غلام بنا لیا اور مجھے فروخت کر دیا‘ یہاں تک کہ ایک عورت نے مجھے خرید لیا‘ میں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو زندگی ٹھیک جا رہی تھی‘ ایک دن میں نے اپنی مالکن سے کہا: آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیں‘ اس نے کہا: ٹھیک ہے میں گیا میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں‘ انہیں فروخت کیا‘ ان کے ذریعے کھانا تیار کیا اور وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کیا ہے‘ میں نے عرض کی یہ صدقہ ہے‘ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تم لوگ کھا لو‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اسے نہیں کھایا تو میں نے سوچا: یہ ان کی مخصوص علامات میں سے ایک ہے۔ پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا‘ پھر میں نے اپنی مالکن نے کہا آپ مجھے ایک دن کی چھٹی د ےدیں‘ اس نے کہا: ٹھیک ہے میں گیا‘ میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں‘ انہیں زیادہ قیمت میں فروخت کیا‘ ان کے ذریعے کھانا تیار کیا‘ اسے لے کر آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے‘ وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھا‘ آپ نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا تحفہ ہے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ الله کا نام لے کر کھاؤ‘ میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوا‘ آپ نے چادر ہٹائی تو مہر نبوت نظر آ گئی‘ میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کس وجہ سے؟ تو میں نے آپ کو اس شخص کے بارے میں بتایا میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ! کیا وہ جنت میں جائے گا؟ جس نے مجھے یہ بتایا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان جان داخل ہو گی‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں‘ تو کیا وہ جنت میں ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
سَلْمَانَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13899
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دین کی تلاش میں نکلا‘ میں اہل کتاب کے باقی رہ جانے والے کچھ راہبوں کے پاس پہنچا‘ الله تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ’’وہ لوگ اس نبی کو یوں پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں‘‘۔تو راہوں کا کہنا تھا کہ یہ اس نبی کی بعثت کا زمانہ آ گیا ہے‘ جن کا ظہور عرب کی سرزمین پر ہو گا‘ ان کی مخصوص نشانیاں ہیں‘ جن میں سے ایک نشانی مہر نبوت ہے‘ جوان کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک بڑے سے تل کی طرح ہو گی‘ تو میں عرب کی سرزمین پر آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور ہوا‘ میں نے وہ تمام چیزیں دیکھ لیں جو انہوں نے بیان کی تھیں اور میں نے مہر نبوت بھی دیکھ لی‘ تو میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے‘ اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔۔۔۔۔اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بقیہ احادیث‘ ان کے مناقب سے متعلق باب ا آگے آئیں گی۔
سَلْمَانَ أَيْضًا
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13900
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابٌ مِنْهُ] · حديث 13901
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا‘ آپ اس وقت اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے‘ قریش نے کہا: اے یہودی! ان صاحب کایہ کہنا ہے کہ یہ نبی ہیں‘ تو اس یہودی نے کہا: میں ان سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کروں گا‘ جس کا علم صرف کسی نبی کو ہو سکتا ہے‘ پھر وہ شخص آیا اور بیٹھ گیا‘ اس نے کہا: اے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! انسان کی تخلیق کس چیز سے ہوئی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"اے یہودی ! ہر شخص کو مرد کے نطفے اور عورت کے نطفے سے پیدا کیا جاتا ہے‘ جہاں تک مرد کے نطفے کا تعلق ہے‘ تو وہ گاڑھا نطفہ ہوتا ہے‘ اس کے ذریعے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں‘ جہاں تک عورت کے نطفے کا تعلق ہے‘ تو پتلا ہوتا ہے‘ اس سے گوشت اور خون بنتا ہے‘‘۔تو یہودی کھڑا ہو گیا اور بولا: آپ سے پہلے کے (انبیاء) بھی اسی طرح بیان کیا کرتے تھے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے‘ ان کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی عامر بن مدرک ہے‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے‘ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور راویوں کی جماعت میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
قُرَيْشٌ: يَا يَهُودِيُّ ← أَصْحَابَهُ. ← «مَرَّ يَهُودِيٌّ بِالنَّبِيِّ وَهُوَ ← عبد الله -يعني ابن مسعود-
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Door of it] · Hadith 13901
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابٌ مِنْهُ] · حديث 13902
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ یہودی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ انہوں نے عرض کی: اے ابو القاسم ! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں‘ اگر آپ نے ہمیں ان چیزوں کے بارے میں بتا دیا تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ آپ نبی ہیں‘ اور ہم آپ کی پیروی کریں گے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے وہ عہد لیا‘ جو حضرت اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا‘ جب انہوں نے یہ کہا تھا: کہ جو تم کہہ رہے ہو اس بارے میں اللہ تعالیٰ گواہ ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ سوال پیش کرو! انہوں نے کہا: آپ ہمیں نبی کی علامت کے بارے میں بتائیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی آنکھیں سو جاتی ہیں‘ لیکن اس کا دل نہیں سوتا ہے‘ انہوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتایئے کہ مؤنث کیسے پیدا ہوتی ہے؟ اور مذکر کیسے پیدا ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’دونوں کا نطفہ ملتا ہے‘ جب مرد کا نطفہ عورت کے نطق پر غالب آ جائے‘ تو بیٹا ہوتا ہے‘ اور جب عورت کا نطفہ مرد کے نطفے پر غالب آ جائے‘ تو بیٹی ہوتی ہے‘‘۔ان لوگوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتایئے کہ حضرت اسرائیل علیہ السلام (یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام نے) اپنے لئے کیا چیز حرام قرار دی تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں عرق النساء کی شکایت ہو گئی تھی‘ تو اس کے لئے انہیں صرف فلاں‘ فلاں چیز کا دودھ موافق ہوا‘ راوی کہتے ہیں : یعنی اونٹنیوں کا دودھ تو انہوں نے ان کا گوشت حرام قرار دے دیا‘ ان لوگوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے‘ پھر انہوں نے کہا: آپ ہمیں گرج چمک کے بارے میں بتایئے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے‘ جو با دل پر مقرر ہے‘ اس کے ہاتھ میں آگ کا بنا ہوا کوڑا ہوتا ہے‘ جس کے ذریعے وہ بادل کو ڈانٹتا ہے‘ اور اس کے ذریعے اسے وہاں لے کر جاتا ہے جہاں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہو‘ انہوں نے کہا: پھر وہ آواز کیا ہوتی ہے؟ جوہم سنتے ہیں‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ اس فرشتے کی آواز ہوتی ہے‘ تو انہوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے‘ اب ایک چیز با قی ره گئی ہے‘ ہم آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیں گے‘ اگر آپ نے ہمیں اس کے بارے میں بھی بتا دیا‘ ہر نبی کے لئے کوئی نہ کوئی ایک فرشتہ ہوتا ہے‘ جو اس کے پاس اطلاعات لے کر آتا ہے‘ تو آپ ہمیں اپنے متعلقہ فرشتے کے بارے میں بتائیے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل ہے‘ ان لوگوں نے کہا: جبرائیل علیہ السلام‘ وہ تو عذاب جنگ اور لڑائی لے کر نازل ہوتا ہے‘ وہ تو ہمارا دشمن ہے‘ اگر آپ میکائیل کہہ دیتے‘ جو رحمت نباتات اور بارش لےکرنازل ہوتا ہے‘ تو ٹھیک ہونا تھا‘ تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:’’تم یہ فرما دو! کہ جو شخص جبرائیل علیہ السلام کا دشمن ہو۔۔۔۔۔۔“۔