مجاہد نے‘ اپنے مالک کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے‘ ان کے مال نے انہیں یہ بات بتائی ہے: جب وہ لوگ‘ زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے‘ تو حجراسودر کھنے کے حوالے سے ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا‘ تو انہوں نے کہا: تم اپنے درمیان کسی کو ثالث بنا لو‘ انہوں نے کہا: اس راستے سے‘ جو شخص سب سے پہلے آئے گا (وہ ہمارا ثالث ہو گا) راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے‘ توانہوں نے کہا: ’’امین‘‘ فرد تمہارے پاس آ گئے ہیں ............ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔اس سے پہلے خانہ کعبہ سے تعلق روایت گزر چکی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں‘ صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے‘ اور وہ ثقہ ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was called, may God’s prayers and peace be upon him, before the mission] · Hadith 13879
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بیان کرتے ہیں: جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندر آتے ہوئے دیکھا‘ تو بولے: ’’امین‘‘ فرد تشریف لے آئے ہیں۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں‘ صرف حفص بن عمر ضریر اور خالد بن عرعرہ کا معاملہ مختلف ہے‘ اور یہ دونوں ثقہ ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was called, may God’s prayers and peace be upon him, before the mission] · Hadith 13880
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابٌ] · حديث 13881
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے‘ اس وقت ہم پیلو کے پھل کو چن رہے تھے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سیاہ رنگ کے چننا‘ میں بھی انہیں چنا کرتا تھا‘ جب میں بکریاں چرایا کرتا تھا‘ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے بکریاں چرائی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابو سلمہ ہے‘ اس نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا‘ تو وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا‘ تو میں اپنے اہل خانہ کی بکریاں ’’جیاد‘‘ کے مقام پر چراتا تھا‘‘۔یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے‘ جو اس سے پہلے خرید وفروخت سے تعلق باب میں گزر چکی ہے‘ جو اس باب میں ہے‘ جس میں ان جانوروں کا ذکر ہے جن کو رکھنا چاہیے۔
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «بُعِثَ مُوسَى وَهُوَ يَرْعَى الدَّوَابَّ». ← وعن ابي سعيد الخدري
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Door] · Hadith 13882
حضرت سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ جوغزوہ بدر میں شرکت کا شرف رکھتے ہیں: وہ بیان کرتے ہیں : بنو عبد اشہل میں ‘ ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا‘ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ایک مرتبہ وہ نکل کر ہمارے پاس آیا اور عبداشہل کے لوگوں کی محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا‘ حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : میں ان دنوں ان سب میں سب سے زیادہ کمسن تھا‘ میرے جسم پر ایک چادر تھی جسے لپیٹ کر میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا تھا‘ اس یہودی نے دو باہ زندہ کیے جانے‘ قیامت‘ حساب‘ میزان‘ جنت اور جہنم کا ذکر کیا‘ تو بت پرستوں اور مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے‘ جو اس بات کے قائل نہیں تھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ بھی زندہ کیا جا سکتا ہے‘ تو انہوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو‘ اے فلاں شخص! تم یہ سمجھتے ہو کہ ایسا ہو گا؟ اور لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد ایک گھر میں منتقل کیا جائے‘ جس میں جنت ہو گی‘ یا جہنم ہو گی‘ اور لوگوں کو اس وقت ان کے اعمال کے حساب سے بدلہ دیا جائے گا؟ اس یہودی نے کہا: جی ہاں! جس ذات کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے‘ اس وقت آدمی یہ خواہش کرے گا کہ جہنم کی آگ کے بدلے میں اسے وہ سب سے بڑا تنور دے دیا جائے‘ جسے وہ لوگ سلگایا کرتے تھے‘ پھر وہ لوگ اس میں داخل ہو جائیں‘ اور جب وہ اس میں داخل ہو جائیں‘ تو اسی (تنور) میں رچ بس جائیں‘ لیکن اس آگ سے نجات پا لیں‘ راوی کہتے ہیں: کسی شخص نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو! اس کی نشانی کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا: ایک نبی ہیں‘ جو ان علاقوں میں مبعوث ہوں گے‘ اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کیا‘ لوگوں نے کہا : تمہارا کیا خیال ہے؟ وہ کب ظاہر ہوں گے؟ اس نے میری طرف دیکھا‘ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ کمسن تھا‘ اس نے کہا: اگر یہ لڑکا اپنی طبعی عمر تک زندہ رہا‘ تو یہ ان کا زمانہ پا لے گا۔حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم !رات اور دن گزرتے رہے‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کر دیا اور اب وہ ہمارے درمیان زنده (موجود) تھے‘ ہم آپ پر ایمان لائے اور اس یہودی نے سرکشی اورحسد کی وجہ سے آپ کا انکار کیا‘ ہم نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارا ستیاناس ہو‘ کیا تم نے ہمیں اس بارے میں ایک بات نہیں کی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں!لیکن وہ یہ نہیں ہیں۔یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13883
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جوسیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی سے منقول ہے: ”بنو عبد اشہل میں ایک یہودی تھا‘ ہم ایک محفل میں موجود تھے‘ اس نے ہم سے کہا: قریش سے تعلق رکھنے والے اور حرم سے تعلق رکھنے والے‘ اس نبی کا زمانہ آ گیا ہے‘ پھر وہ اس محفل کی طرف متوجہ ہوا اور بولا :اگرکسی نے ان کا زمانہ پا لیا تویہ نوجوان ان کا زمانہ پالے گا‘ اس نے میری طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی‘ پھر اللہ کے حکم کے تحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے‘ تو میں نے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں‘ تو اس یہودی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ وہی ہیں‘ میں نے کہا : پھر تم اسلام کیوں نہیں قبول کر لیتے ؟ اس نے کہا: الله کی قسم! میں یہودیت نہیں چھوڑوں گا“۔ امام احمد کے رجال ’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں‘ صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے‘ اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے۔
أم سلمة أيضًا). ← وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدِهِ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13884
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جناب عبدالمطلب نے یہ بات بیان کی ہے: میں اپنے سالانہ دو سفروں میں سے‘ ایک سفر میں یمن کی طرف گیا‘ میں ایک یہودی شخص کے ہاں ٹھہرا‘ وہاں کے ایک عبادت خانے کے ایک شخص نے مجھے دیکھا‘ اس نے مجھ سے میرا نسب دریافت کیا‘ میں نے اس کے سامنے اپنا نسب بیان کیا‘ اس نے کہا: کیاتم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں تمہارے جسم کا جائزہ لوں؟ میں نے کہا ٹھیک ہے‘ جبکہ شرمگاہ کے علاوہ ہو‘ اس نے میرے نتھنوں میں سے ایک کھول کے دیکھا‘ پھر دوسرے میں دیکھا اور پھر بولا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے ایک ہاتھ میں بادشاہی ہے‘ اور دوسرے میں نبوت ہے‘ لیکن ہم تو یہ چیز پاتے ہیں کہ اس کا تعلق بنو زہرہ سے بھی ہو گا‘ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم‘ تواس نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس ساتھ ہے؟ میں نے کہا: ساتھ سے مراد کیا ہے؟ اس نے کہا: بیوی‘ میں نے کہا: اب تو کوئی نہیں ہے‘ اس نے کہا: جب تم واپس جاؤ گے‘ تو تم بنو زہرہ میں شادی کر لینا‘ جناب عبد المطلب واپس آئے‘ تو انہوں نے ہالہ بنت وہیب بن عبد مناف بن زہرہ سے شادی کی‘ تو ان کے ہاں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے‘ انہوں نے اپنے صاحبزادے (حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی شادی سیّدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کی‘ تو قریش نے کہا: عبداللہ نے اپنے والد کا مقابلہ کیا ہے‘ سیّدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنم دیا‘ اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رضائی بھائی بھی تھے‘ کیونکہ ابولہب کی کنیز ثویبہ نے ان دونوں کو دودھ پلایا تھا‘ اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ تھی۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13885
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا‘ تاکہ ایک شخص کو جنت میں داخل کروا دے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے عبادت خانے میں داخل ہوئے‘ وہاں یہودی لوگ موجود تھے اور ایک یہودی ان کے سامنے تورات پڑھ رہا تھا‘ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیہ کے مقام پر پہنچے‘ تو اس کو پڑھنے سے رُک گئے‘ اس عبادت خانے کے کونے میں ایک بیمار شخص موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہوا؟ تم رُک کیوں گئے؟ بیمار نے کہا: یہ لوگ اب نبی کی صفت کے مقام پر پہنچے ہیں‘ اس لئے رُک گئے ہیں‘ پھر وہ (بیمار) یہودی شخص آیا‘ وہ گھٹنوں کے بل جھکا‘ اس نے تورات لی‘ اسے پڑھا‘ یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیہ اور آپ کی اُمت کی صفت کو پڑھا اور بولا : یہ صفت آپ کی ہے‘ اور آپ کی اُمت کی ہے‘ تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبورنہیں ہے‘ اور آپ اللہ کے رسول ہیں‘ پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا‘ توبنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرو (یعنی اس کے کفن دفین کا انتظام کرو)‘‘۔یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے‘ اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
ابْنِ مَسْعُودٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13886
حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: امیہ بن ابو صلت ان کے ساتھ ’’غزہ‘‘ میں یا ’’ایلیاء‘‘ میں موجودتھا‘ جب ہم واپس آ رہے تھے‘ تو اس نے کہا: اے ابو سفیان! کیا تم اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتے ہو؟ کہ ہم اپنے ساتھیوں سے ذرا آگے بڑھ جائیں اور آپس میں بات چیت کریں‘ میں نے کہا: ٹھیک ہے‘ راوی کہتے ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا‘ اس نے کہا: اے ابو سفیان! ان میں سے کون عتبہ بن ربیعہ کے خاندان میں سے ہے؟ میں نے کہا: یہ (سب) لوگ عتبہ کے خاندان ہی سے تعلق رکھتے ہیں‘ اس نے کہا: وہ ماں باپ کی طرف سے معزز ہے‘ اور ظلم کرنے اور حرام کاموں کے ارتکاب سے اجتناب کرتا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں!اس نے کہا: وہ معزز عمر رسیّدہ فرد ہے‘ اس نے یہ کہا: عمر رسیدگی اور شرف اس کو حقیر کرتے ہیں‘ میں نے اس سے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو‘ جیسے‘ جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے‘ آدمی کی عزت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے‘ اس نے کہا: اے ابو سفیان! یہ ایک بات ہے‘ جو میں نے کسی سے سنی نہیں ہے‘ جب سے میں نے عیسائیت اختیار کی ہے‘ میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا‘ تم میرے بارے میں جلد بازی نہ کرو‘ میں تمہیں بتاتا ہوں‘ اس نے کہا: میں نے اپنی کتابوں میں ایک نبی کا ذکر پایا ہے‘ جو ہمارے حرم میں مبعوث ہو گا‘ تو میرا گمان تھا‘ بلکہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ نبی ’’میں‘‘ ہوں گا‘ لیکن جب میں نے اہل علم سے مذاکرات کیے‘ تو پتہ چلا کہ اس کا تعلق بنو عبد مناف سے ہو گا‘ میں نے بنو عبدمناف کا جائزہ لیا‘ تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا‘ جواس کام کے لئے عتبہ بن ربیعہ سے زیادہ موزوں ہو‘ لیکن جب تم نے مجھے اس کے نسب کے بارے میں بتایا‘ تو مجھے پتہ چل گیا کہ وہ بھی نہیں ہے‘ کیونکہ اس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو چکی ہے‘ اور اس پر وحی نازل نہیں ہوئی‘ ابو سفیان کہتے ہیں : پھر ایک زمانہ گزر گیا‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی نازل ہوئی‘ میں قریش کے کچھ سواروں کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں یمن جانے کے لئے نکلا‘ میرا گزر امیہ بن صلت کے پاس سے ہوا‘ میں نے اس کا مذاق اڑانے کے طور پر اس سے کہا: اے امیہ ! وہ نبی مبعوث ہو گئے ہیں‘ جن کا انتظار کر رہے تھے‘ اس نے کہا: وہ حق ہیں‘ تم ان کی پیروی کرو‘ میں نے کہا :تم ان کی پیروی کیوں نہیں کرتے؟ اس نے کہا: مجھے ثقیف قبیلے کی عورتوں سے حیاء آتی ہے‘ وہ ایک زمانے سے مجھے پیشوا کے طور پر دیکھتی آ رہی ہیں‘ اور پھر وہ مجھے دیکھیں گی کہ میں بنو عبد مناف سے تعلق کھنے والے ایک نوجوان کا پیروکار بن گیا ہوں‘ پھر امیہ نے کہا: اے ابو سفیان ! تمہارے بارے میں یوں لگتا ہے کہ جیسے تم ان کی مخالفت کرو گے اور پھر تمہیں باندھ دیا جائے گا‘ جس طرح جدی کو باندھا جاتا ہے‘ یہاں تک کہ تمہیں ان کے پاس لے جایا جائے گا‘ اور تمہارے بارے میں وہ جو چاہیں گے فیصلہ دیں گے۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
أبي سفيان بن حرب
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13887
خلیفہ بن عبدہ بن جرول بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے دریافت کیا: آپ کے والد نے زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام ’’محمد‘‘ کیوں رکھا تھا؟ تو انہوں نے بتایا: تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا ہے‘ میں نے بھی اس کے بارے میں اپنے والد سے دریافت کیا تھا‘ توانہوں نے بتایا: مجھ سمیت بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے چار افراد روانہ ہوئے میں ان میں سے ایک تھا‘ ایک سفیان بن جاشع بن دارم تھا‘ ایک اسامہ بن مالک تھا‘ اور ایک یزید بن ربیعہ تھا‘ ہم لوگ شام میں موجود ابن جفنہ غسانی کی طرف جا رہے تھے‘ جب ہم شام آئے‘ تو ہم نے ایک کنویں کے پاس پڑاؤ کیا‘ جس کے آس پاس درخت تھے اور پاس ہی ایک عبادت خانہ تھا‘ ہم نے کہا: اگر ہم اس پانی کے ذریعے غسل کر لیں‘ تیل لگائیں اور عمدہ لباس پہنیں‘ تو پھر ہم اپنے متعلقہ فرد کے پاس جائیں گے‘ اسی دوران اس عبادت خانے کے شخص نے ہمیں جھانک کر دیکھا اور بولا: یہ زبان تو اس علاقے کی زبان نہیں ہے‘ ہم نے کہا: جی ہاں! ہم مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں‘ اس نے دریافت کیا: مضر میں سے کسی سے تعلق ہے؟ ہم نے کہا: خندف سے ہے‘ اس نے کہا: تم میں ایک نبی کو مبعوث کیا جائے گا‘ تو تم لوگ جلدی کرنا اور ان سے اپنا حصہ حاصل کر لینا‘ تم لوگ ہدایت پا جاؤ گے‘ کیونکہ وہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہوں گے‘ ہم نے کہا: ان کا نام کیا ہو گا ؟اس نے جواب دیا: حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ہم ابن جفنہ کے پاس سے واپس آئے‘ تو ہم میں سے ہر ایک کے ہاں لڑکا پیدا ہوا‘ تو ہر ایک نے اپنے بیٹے کا نام ’’محمد‘‘ رکھا۔علاء بیان کرتے ہیں: قیس بن عاصم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں‘ عربوں میں سے آپ کے بارے میں سب سے پہلے کسے علم تھا؟ جو علم آپ کی بعثت سے بھی پہلے حاصل ہوا تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا : نہیں اس نے کہا: بنو تمیم کو تھا‘ پھر انہوں نے پورا واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسنایا۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
خَلِيفَةَ بْنِ عَبْدَةَ بْنِ جَرْوَلٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13888
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ قریش‘ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت پہنچایا کرتے تھے‘ جب مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ عنقریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کر دیں گے‘ تو میں نکلا اور ایک عبادت خانے میں چلا گیا‘ اس عبادت خانے کے لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا‘ تو اس نے کہا: اس کے لئے اس کے حق کا بندوبست کرو‘ جو تین دن تک ہو‘ جب تین دن گزر گئے اور انہوں نے حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ نہیں گئے‘ تو وہ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا‘ تو اس نے کہا:تم اس سے کہو کہ ہم نے تمہارا جو مناسب حق بنتا تھا‘ اس کا بندوبست کر دیا تھا‘ اگر تم پریشانی کا شکار تھے‘ تو تمہاری پریشانی ختم ہو گئی ہے‘ اگر تم نے کہیں پہنچنا تھا‘ تو کیا وجہ ہے؟ تم اپنی منزل کی طرف کیوں نہیں جاتے ؟اگر تم تجارت کرنے والے فرد ہو‘ تو تم اپنی تجارت کی طرف کب جاؤ گے؟ تو حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: نہ تو میں کہیں جانا چاہ رہا تھا‘ نہ ہی میں تاجر ہوں‘ اور نہ ہی میں پریشانی کا شکار ہوں‘ وہ لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا‘ تو اس نے کہا: اس کا کوئی اہم معاملہ ہو گا‘ تم لوگ اس سے پوچھو کہ اس کا معاملہ کیا ہے؟ وہ لوگ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے‘ انہوں نے ان سے دریافت کیا‘ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آبادکی ہوئی بستی میں‘ میرا ایک چچا زاد ہے‘ اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ نبی ہے‘ اس کی قوم کے لوگ اسے اذیت پہنچا رہے ہیں‘ مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ لوگ اسےقتل کر دیں گے‘ تو میں وہاں سے نکل آیا‘ تاکہ میں اس موقع پر موجود نہ ہوؤں‘ تو وہ لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے‘ اور اسے میرے بیان کے بارے میں بتایا‘ تو اس نے کہا: اس کو میرے پاس لے کر آؤ‘ میں اس کے پاس گیا‘ میں نے اسے پورا واقعہ سنایا‘ تو اس نے دریافت کیا: کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا:اگر تم ان کی تصویر دیکھ لو؟ تو کیا تم ان کی شباہت کو پہچان لو گے؟ میں نے کہا: میں کچھ عرصہ پہلے ان سے ملا تھا‘ پھر اس نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکچھ تصویریں دکھائیں‘ جو ڈھانپی ہوئی تھیں‘ وہ ایک‘ ایک تصویر کے آگے سے پردہ ہٹایا گیا‘ پھر دریافت کرتا گیا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں جواب دیتا تھا: جی نہیں! یہاں تک کہ اس نے ایک ڈھانپی ہوئی تصویر کے آگے سے پردہ ہٹایا‘ تو میں نے کہا: میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی‘ جو اس نبی کے ساتھ‘ اس تصویر سے زیادہ مشابہت رکھتی‘ جو ان کی لمبائی‘ ان کی جسامت‘ کندھوں کی چوڑائی بالکل ویسی ہی ہے‘ اس نے دریافت کیا: کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ انہیں شہید کریں گے؟ میں نے کہا: ان لوگوں کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ اس حوالے سے فارغ ہو چکے ہوں گے‘ اس نے کہا: اللہ کی قسم! وہ لوگ اس نبی کو شہید نہیں کر سکیں گے‘ البتہ وہ نبی جس کو چاہیں گے اسے قتل کر دیں گے‘ کیونکہ وہ نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں ضرور غالب کرے گا‘ لیکن اب تمہارا حق ہم پر واجب ہو چکا ہے‘ تمہیں جتنا عرصہ مناسب لگتا ہے‘ یہاں ٹھہرے رہو اور جو چاہو طلب کر لو۔حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں ان کے ہاں ایک عرصے تک ٹھہرا رہا‘ پھر میں نے کہا: اب میں واپسں چلتا ہوں‘ میں مکہ آیا‘ وہاں میں نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ منورہ کی طرف نکلنے پر مجبور کر دیا تھا‘ جب میں آیا تو قریش اُٹھ کر میرے پاس آئے‘ انہوں نے کہا: تمہارا معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہے‘ ہم نے تمہاری صورت حال کو جان لیا ہے‘ تو تم بے دین افراد کے وہ اموال ہمیں دے دو جو تمہارے پاس موجود ہیں‘ جو تمہارے والد نے تمہارے پاس رکھوائے تھے‘ میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا‘ خواہ تم میرے سر اور جسم کو الگ کر دو‘ البتہ تم لوگ مجھے موقع دو‘ میں جانتا ہوں اور ان لوگوں کے اموال ان کے حوالے کر دیتا ہوں تو مشرکین نے کہا: تم پر اللہ کے نام کا عہد اور میثاق لازم ہے کہ تم نے ان کے کھانے میں سے کچھ نہیں کھانا‘ حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع مل چکی تھی‘ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے باتیں کیں‘ ان میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ میرے خیال میں تم بھوکے ہو(آپ نے لوگوں سے فرمایا:) تم لوگ کھانا لے کر آؤ! میں نے کہا: میں کھانا نہیں کھاؤں گا‘ جب تک آپ کو بتاتانہیں ہوں‘ پھر آپ جو مناسب سمجھیں‘ آپ کہیں گے تو میں کھا لوں گا‘ پھر حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ بات بتائی‘ جو ان لوگوں نے ان سے عہد لیا تھا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اللہ کے نام کے عہد اور میثاق کو پورا کرو‘ اور ہمارے کھانے میں سے نہ کھاؤ‘ اور ہمارے مشروب میں سے نہ پیو‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے‘ جسے امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے‘ ابن قیق العید نے کتاب ’’الامام‘‘ میں یہ بات بیان کی ہے: اس کی توثیق کی گئی ہے‘ اور یہ حدیث حسن ہے۔
جُبَيْرِ بْنِ الْمُطْعِمِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13889
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں‘ میں تجارت کرنے کے لئے شام کی طرف گیا‘ جب میں شام کے قریب پہنچا تو اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مجھ سے ملا اور بولا : کیا تمہارے ہاں کوئی نبی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں! اس نے کہا: کیا تم ان کی تصویر کو پہچان لو گے جب اسے دیکھو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو وہ مجھے ایک گھر میں لے گیا‘ جہاں مختلف تصویریں موجود تھیں‘ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر نہیں دیکھی‘ ابھی ہم وہاں اسی طرح موجود تھے کہ ان میں سے ایک اور شخص ہمارے پاس آیا‘ اس نے کہا: تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ ہم نے اس بارے میں بتایا تو وہ ہمیں لے کر اپنے گھر چلا گیا‘ جیسے ہی میں اس کے گھر میں داخل ہوا تو‘ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر نظر آ گئی اور وہاں ایک شخص موجود تھا‘ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے موجود تھا (یا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑی کو پکڑا ہوا تھا) میں نے کہا: یہ صاحب کون ہیں؟ جوان کے پیچھے کھڑےہوئے ہیں؟ تو اس نے کہا: ہر نبی کے بعد کوئی نبی ہوتا ہے‘ لیکن اس نبی کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا‘ یہ شخص ان کے بعد ہونے والا خلیفہ ہے‘ راوی کہتے ہیں: تو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصویر تھی۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of what was, with the People of the Book, the command of his prophethood, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 13890