مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابٌ] · حديث 14263
14263 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مِثْلُ لَيْلَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا عَائِشَةُ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ؟ ". فَأَقُولُ: لَا، حَتَّى أَذَّنَ بِلَالٌ بِالْفَجْرِ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَا هَذَا؟ ". فَقُلْتُ: هَذَا بِلَالٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھ پر کوئی رات ایسی نہیں گزری‘ جو اس رات کی مانند تھی‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ ! کیا صبح صادق ہو گئی ہے؟ میں نے جواب دیا: نہیں ! یہاں تک کہ بلال نے فجر کی اذان دی‘ پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی : یہ بلال ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
«مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مِثْلُ لَيْلَةِ ← وعن عائشة
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Door] · Hadith 14263
