مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابٌ فِي مَرَضِهِ وَوَفَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَطْلَعَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ] · حديث 14239
14239 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: " نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مِينَاءُ بْنُ أَبِي مِينَاءَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات جب جنات کے وفد نے حاضر ہونا تھا‘ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا‘ جب آپ واپس تشریف لائے‘ تو آپ گہرے سانس لے رہے تھے‘ میں نے عرض کی: آپ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن مسعود! مجھے میری وفات کی اطلاع دی گئی ہے۔یہ روایت امام احمدنے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی میناء بن الومیناء ہے‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے‘ اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكَ ← ابْنِ مَسْعُودٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on his illness and his death, may God bless him and grant him peace, and what God Almighty brought about from that] · Hadith 14239
