مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابٌ فِي تَوَاضُعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 14227
14227 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ تُرَافِثُ الرِّجَالَ، وَكَانَتْ بَذِيئَةً، فَمَرَّتْ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَأْكُلُ ثَرِيدًا عَلَى طِرْبَالٍ، فَقَالَتِ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ، وَيَأْكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " وَأَيُّ عَبْدٍ أَعْبَدُ مِنِّي؟ ". قَالَتْ: وَيَأْكُلُ وَلَا يُطْعِمُنِي. قَالَ: " فَكُلِي ". قَالَتْ: نَاوِلْنِي بِيَدِكَ. فَنَاوَلَهَا، فَقَالَتْ: أَطْعِمْنِي مِمَّا فِي فِيكَ. فَأَعْطَاهَا فَأَكَلَتْ، فَغَلَبَهَا الْحَيَاءُ فَلَمْ تُرَافِثْ أَحَدًا حَتَّى مَاتَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون‘ مردوں کے ساتھ جھگڑا کیا کرتی تھی وہ بد زبان خاتون تھی‘ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزری‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت ثرید کھا رہے تھے اس نے کہا: ان کی طرف دیکھو! یہ اس طرح بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح کوئی غلام بیٹھتا ہے‘ اور اس طرح کھا رہے ہیں‘ جس طرح کوئی غلام کھاتا ہے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے بڑا بندہ اور کون ہو گا ؟اس خاتون نے کہا: یہ خود کھا رہے ہیں اور مجھے کھانے کے لئے نہیں دے رہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی کھا لو‘ اس نے کہا: آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے مجھے پکڑائیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پکڑایا‘ تو اس نے کہا: آپ اس میں سے مجھے کھانے کے لئے دیں‘ جو آپ کے منہ میں ہے‘ آپ نے وہ (لقمہ) اس کو دے دیا تو اس نے وہ کھا لیا‘ پھر اس عورت پر حیاء غالب ہو گئی‘ اس کے بعد وہ مرتے دم تک کسی سے نہیں لڑی۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند ضعیف ہے۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on humility, may God bless him and grant him peace] · Hadith 14227
