سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین اور انصار کے گروہ کے درمیان موجود تھے‘ اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اسں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوسجدہ کیا‘ آپ کے اصحاب نے عرض کی: یا رسول اللہ! جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں‘ تو ہم تو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کا احترام کرو۔(علا مہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں کہتا ہوں: اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند عمدہ ہے۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14167
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے‘ اسی دوران ایک اونٹ سامنے آیا‘ جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا‘ تو اس نے اپنا سر اوپر کیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے یعلی ! تم اس اونٹ کے مالکان کے پاس جاؤ اور ان سے اس اونٹ کو خرید لو اگر وہ تمہیں اس کو فروخت نہیں کرتے تو تم کہنا کہ اللہ کے رسول تمہیں اس کے بارے میں تلقین کر رہے ہیں‘ ان لوگوں نے بتایا: اللہ کی قسم ! ہم بیسں سال تک اس پر پانی لاد کر لاتے رہے ہیں‘ کل ہم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا تھا‘ لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں تلقین کر دی ہے‘ تو اب ہم اس کے حوالے بھلائی میں کوتاہی نہیں کریں گے۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند حسن ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14168
اسی سند کے ساتھ‘ حضرت یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: ’’ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے‘ ہمارے سامنے کھجور کے تین چھوٹے درخت آئے‘ جو ایک دوسرے سے الگ الگ تھے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان تینوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ تمہیں اللہ کے رسول یہ ہدایت کر رہے ہیں کہ تم اللہ کے حکم کے تحت اکٹھے ہو جاؤ‘ تو وہ چلتے ہوئے آئے اور ایک جڑ کی مانند ہو گئے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کے لئے ان کے ذریعے پردہ کر لیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اے یعلی تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ الله کےحکم کے تحت واپس چلے جائیں‘ تو وہ چلتے ہوئے گئے‘ یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا گیا۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14169
حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: آپ مجھے کوئی نشانی دکھائیے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس درخت کے پاس جاؤ اور اسے بلا کے لاؤ‘ وہ شخص اس درخت کے پاس گیا اور بولا:اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں‘ تو وہ درخت کبھی ایک طرف جکتا تھا‘ کبھی دوسری طرف جھکتا تھا‘ یہاں تک کہ اس نے اپنی تمام جڑیں اکھیڑ لیں‘ پھر وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیانبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ تم واپس چلے جاؤ! وہ شخص کھڑا ہوا‘ اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اور ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا اور اسلام قبول کر لیا۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن حبان ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14170
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا وہ علاج معالجہ کیا کرتا تھا‘ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ کچھ باتیں کہتے ہیں‘ تو کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ میں آپ کا علاج کروں؟ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلوایا اور اس سے فرمایا: کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو؟ کہ میں تمہارا علاج کروں؟ اس نے کہا: کریں‘ اس وقت وہاں ایک درخت اور ایک کھجور کا درخت موجود تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے ایک درخت کو بلایا‘ تو وہ آپ کی طرف آیا اور اس نے سجدہ کیا‘ پھر اس نے سر اٹھایا اور پھر سجده کیا‘ پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا‘ یہاں تک کہ اس طرح وہ سجدہ کرتا ہوا آپ کے پاس گیا اور آپ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ‘ وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا‘ تو اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم !اس کے بعد آپ جو بھی بات کہیں گے‘ میں کسی بھی چیز کے حوالے سے آپ کو جھوٹا قرار نہیں دوں گا‘ پھر اس شخص نے کہا: اے عامر بن صعصہ !اللہ کی قسم! اس کے بعد یہ صاحب جو بھی بات کہیں گے‘ میں‘ کسی چیز کے حوالے سے‘ انہیں جھوٹا قرار نہیں دوں گا۔ راوی کہتے ہیں : عذق سے مراد‘ کھجور کا درخت ہے۔یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں‘ صرف ابراہیم بن حجاج شامی کا معاملہ مختلف ہے‘ اور وہ ثقہ ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14171
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجون کے مقام پر موجود تھے‘ مشرکین نے آپ کی بات تسلیم نہیں کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی :اے اللہ! آج مجھے ایسی نشانی دکھا دے کہ اس کے بعد مجھے اس شخص کی کوئی پرواہ نہ ہو‘ جو مجھے جھٹلائے‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (فرشتہ آیا) اور آپ سے کہا گیا: آپ کسی درخت کو بلائیں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا) تو وہ درخت زمین پر چلتا ہوا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا‘ تو وہ واپس چلا گیا‘ یہاں داؤد نامی راوی نے یہ نقل کیے ہیں: اپنے اُگنے کی جگہ واپس چلا گیا‘ اور عفان نے یہ لفظ نقل کیے ہیں:اپنی مخصوص جگہ پر واپس چلا گیا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اس کے بعد میری قوم کا جو فرد مجھے جھٹلائے گا تو میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے‘ اور امام ابو یعلیٰ کی سند حسن ہے۔
عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14172
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے‘ یہاں تک کہ ہم مدینہ منور ہ مختلف راستے ملنے کی جگہ پر پہنچے‘ تو وہاں ہمیں ایک دیہاتی نظر آیا‘ جس نے اپنے اونٹ کی لگام پکڑی ہوئی تھی‘ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا‘ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد موجود تھے‘ اس نے کہا: اے نبی ! آپ پر سلامتی نازل ہو‘ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارا کیا حال ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: اسی دوران اونٹ آوازیں نکالنے لگا‘ پھر ایک شخص آیا جو حرسی لگ رہا تھا‘ اس حرسی نے کہا: یا رسول اللہ! اس دیہاتی نے اونٹ چوری کیا ہے‘ راوی کہتے ہیں: وہ اونٹ کچھ دیر آوازیں نکالتا رہا اور روتا رہا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اس کا رونا اور آوازیں سن رہے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے خاموش کروانے لگے‘ جب وہ اونٹ پر سکون ہوا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حرسی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا: اسے چھوڑ دو! کیونکہ اس اونٹ نے تمہارے خلاف یہ گواہی دی ہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو‘ تو وہ حرسی واپس چلا گیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیہاتی کی طرف متوجہ ہوئے‘ اور فرمایا: جب تم میرے پاس واپس آئے تھے‘ تو تم نے کیا کہا تھا؟ راوی کہتے ہیں : اس نے کہا: میں نے یہ کہا تھا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘ اے اللہ! تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت نازل فرما‘ یہاں تک کہ رحمت باقی نہ رہے‘ اے اللہ! تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکت نازل فرما‘ یہاں تک کہ برکت باقی نہ رہے‘ اے اللہ! تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلامتی نازل فرما‘ یہاں تک کہ سلامتی باقی نہ رہے‘ اے اللہ ! تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت فرما! یہاں تک کہ رحمت باقی نہ رہے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اسے میرے لئے ظاہر کیا اور اونٹ اپنے عذر کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا‘ اور فرشتوں نے اسے گھیرا ہوا تھا۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں۔
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14173
حضرت حکم بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ٍصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک کام کے سلسلے میں بھیجا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے‘ تو میری اونٹنی رُکی ہوئی تھی اور میں اسے مار رہا تھا‘ نبی اکرم ٍصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسےنہ مارو! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے کھول دو (یا اسے چھوڑ دو!) تو وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی‘ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ چلنے لگی۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
لَا تَضْرِبْهَا ← أَضْرِبُهَا، ← بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ فِي السَّلَبِ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ خَلَأَتْ نَاقَتِي ← الحكم بن الحارث السلمي
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14174
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابٌ فِي حَدِيثِ جَابِرِ فِي قِصَّةِ بَعِيرِهِ] · حديث 14175
حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات میرا اونٹ گم ہو گیا‘ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا‘ آپ سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے پالان باندھ رہے تھے آپ نے مجھ سے دریافت کیا: اے جابر! کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: میرا اونٹ گم ہو گیا ہے (راوی کوشک ہے‘ شاید یہ الفاظ ہیں :) میر اونٹ چلا گیا ہے‘ یہ ایک تاریک رات تھی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ادھر تمہارا اونٹ ہو گا‘ تم جاؤ اور اسے لے لو! راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جس طرف کے بارے میں بتایا تھا‘ میں اس طرف گیا‘ لیکن مجھے اونٹ نہیں ملا‘ میں آپ کے پاس واپسں آیا‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘ وہ اونٹ مجھے نہیں ملا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ادھر تمہارا اونٹ ہو گا تم جاؤ اور اسے لے لو‘ راوی کہتے ہیں: ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس سمت کے بارے میں مجھے بتایا تھا میں ادھر گیا‘ لیکن مجھے نہیں ملا‘ میں واپس آیا‘ میں نے عرض کی: اے اللہ نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘ اللہ کی قسم! وہ مجھے نہیں ملا‘ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کام سے فارغ ہوئے تو آپ ؤنے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کے چلے اور اونٹ کے پاس آ گئے‘ وہ آپ نے میرے حوالے کیا اور فرمایا: یہ رہا تمہارا اونٹ‘ راوی کہتے ہیں: ہم روانہ ہوئے‘ میں اپنے اونٹ پر چل رہا تھا اور لوگوں سے پیچھے تھا‘ میرےاونٹ کو چلنے میں دشواری پیش آ رہی تھی‘ وہ بہت چھوٹے قدم اٹھا رہا تھا‘ میں نے کہا: ہائے میری ماں میرے پاس تو ایک ایسا اونٹ ہے‘ جو چھوٹے قدم اٹھاتا ہے‘ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے کچھ پیچھے تھے‘ آپ نے میری بات سن لی‘ آپ میرے پاس آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! ابھی تم نے تھوڑی دیر پہلے کیا کہا ہے؟ راوی کہتے ہیں: میں نے جو بات کہی تھی وہ میں بھول چکا تھا‘ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی ! میں نے کچھ نہیں کہا‘ پھر مجھے وہ بات یاد آ گئی‘ جو میں نے کہی‘ تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے یہ کہا تھا کہ ہائے میری ماں ! میرے پاس وہ اونٹ ہے‘ جو چھوٹے قدم اٹھاتا ہے‘ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھڑی کے ذریعے (راوی کو شک ہے) میری چھڑی کے ذریعے‘ اونٹ کی پشت پر مارا‘ راوی کہتے ہیں: تو وہ سب سے زیادہ تیز چلنے لگا‘ اتنا تیز وہ کبھی نہیں چلا تھا‘ جب سے میں اس پر سوار ہوا تھا‘ یہاں تک کہ مجھے اس کی لگام کھینچنی پڑ رہی تھی‘ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اپنا اونٹ مجھے فروخت کرو گے؟ میں نے عرض کی ٹھیک ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: کتنے کے عوض میں؟ میں نے عرض کی ایک اوقیہ کے عوض میں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت خوب‘ بہت خوب‘ ایک اوقیہ کے عوض میں اونٹ۔راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مدینہ میں کوئی ایسا اونٹ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں مجھے یہ پسند ہو کہ اس کی جگہ ہمیں وہ مل جائے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک اوقیہ کے عوض میں اسے لیتا ہوں‘ راوی کہتے ہیں: میں پالان سے اتر کر زمین پر آیا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کی یہ آپ کا اونٹ ہو گیا ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اونٹ پر سوار ہو جاؤ‘ میں نے عرض کی یہ میرا اونٹ نہیں ہے‘ بلکہ یہ آپ کا اونٹ ہے‘ راوی بیان کرتے ہیں: ہم دو مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نظر ثانی کی درخواست کرتے تھے‘ جب آپ تیسری مرتبہ میں حکم دیدیتے تھے‘ تو پھر ہم نظرثانی کی درخواست نہیں کرتے تھے‘ راوی کہتے ہیں: میں اس اونٹ پر سوار ہوا یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں موجود اپنی پھوپھی کے پاس آیا‘ میں نے ان سے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے میں نے ایک اوقیہ کے عوض میں اپنا یہ اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفروخت کر دیا ہے؟ راوی کہتے ہیں مجھے لگا کہ یہ بات انہیں اچھی نہیں لگی‘ کیونکہ وہ ایک مناسب اونٹ تھا‘ راوی کہتے ہیں: پھر میں نے کچھ پتے لئے وہ اس اونٹ کو کھلائے‘ پھر میں نے اس کی لگام پکڑی اور اسے لے کر چلتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا کہ آپ ایک جگہ پر ٹھہرے ہوئے کسی شخص کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اپنا اونٹ لے لیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی لگام پکڑی اور پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ جابر کو ایک اوقیہ وزن کر کے دو‘ اور پور اوزن دینا‘ میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ گیا‘ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ وزن کر کے دیا‘ اور پورا وزن دیا‘ پھر میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی شخص کے ساتھ کھڑے بات چیت کر رہے تھے‘ میں نے کہا: انہوں نے مجھے وزن کر کے پورا ایک اوقیہ ادا کر دیا ہے‘ راوی کہتے ہیں: اسی دوران میں اپنے گھر کی طرف واپس آ گیا‘ مجھے پتہ نہیں چلا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: جابر کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا وہ اپنے گھر چلا گیا ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور اسے میرے پاس واپس لے کر آؤ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا: اے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں‘ راوی کہتے ہیں: میں آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا اونٹ لے لو‘ میں نے عرض کی: یہ میرا اونٹ نہیں ہے‘ یا رسول اللہ! یہ آپ کا اونٹ ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا اونٹ لے لو‘ میں نے عرض کی : یہ میرا اونٹ نہیں ہے‘ یا رسول اللہ! یہ آپ کا اونٹ ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے فرمایا: تم اپنا اونٹ لے لو! تو میں نے اسے لے لیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے! ہم نے تمہیں اس لئے نفع نہیں دیا تھا تاکہ تم اس سے اتر جاؤ (یا اس سے الگ ہو جاؤ)“۔ ، راوی کہتے ہیں: پھر میں اپنی پھوپھی کے پاس اپنے ساتھ اونٹ لے کر آیا اور ایک اوقیہ لے کر آیا اور میں نے ان سے کہا: آپ نے دیکھا‘ اللہ کے رسول نے مجھے ایک اوقیہ بهی دیدیا اور میرا اونٹ بھی واپس کر دیا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔ یہ روایت امام احمد نے قتل کی ہے‘ اور اس کے رجال’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں‘ تا ہم نبیح عنزی کا معاملہ مختلف ہے‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کے قرض کی ادائیگی والی حدیث‘ جو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نقل کی ہے‘ وہ گزر چکی ہے‘ اس میں ’’صحیح‘‘ والا واقعہ مذکور نہیں ہے‘ اور وہ میت کی طرف سے قرض ادا کرنے سے متعلق باب میں گزری ہے۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter in the hadith of Jaber in the story of his camel] · Hadith 14175
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابٌ فِي شَجَاعَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 14176
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر‘ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ لے رہے تھے‘ اور آپ دشمن کے سب سے زیادہ قریب تھے‘ اور آپ اس دن سب سے زیادہ خطر ناک صورتحال میں تھے۔یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور ان کے الفاظ یہ ہیں:’’حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات مذکور ہے:ان سے غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ کے بارے میں دریافت کیا گیا‘ تو انہوں نے بتایا: کہ غزوہ بدر کے دن‘ ہم میں سب سے زیادہ مضبوط (یامشکل کا شکار) وہ شخص تھا‘ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا۔
عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his bravery, may God bless him and grant him peace] · Hadith 14176
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابٌ فِي شَجَاعَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 14177
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے دوسرے لوگوں پر‘ چار حوالوں سے فضیلت عطا کی گئی ہے‘ سخاوت بہادری۔۔۔۔۔“۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے‘ جو اس سے پہلے کتاب النکاح میں گزر چکی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور اس کی سند حسن ہے۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his bravery, may God bless him and grant him peace] · Hadith 14177
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابٌ فِي جُودِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 14178
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں سب سے بڑے سخی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا سخی ہے‘ اور میں‘ اولاد آدم میں سب سے زیادہ سخی ہوں‘ اور میرے بعد ان میں سب سے زیادہ سخی وہ شخص ہے‘ جوعلم حاصل کرے اور اپنے علم کو پھیلائے‘ اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا‘ اور ایک وہ شخص ہے‘ جو اپنی جان کے ہمراه اللہ کی راہ میں (جنگ میں) حصہ لے‘ یہاں تک کہ شہید ہو جائے‘‘۔یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبد العزیز ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [A chapter in its existence, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 14178