حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دو اونٹ تھے‘ اس نے ان دونوں کو ایک باغ میں داخل کیا‘ اور دروازہ بند کر دیا‘ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اس کا یہ ارادہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کے لئے دعا کریں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ تشریف فرما تھے‘ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں‘ میرے دو اونٹ ہیں‘ وہ دونوں سرکش ہو گئے ہیں‘ میں نے ان دونوں کو باغ میں داخل کیا ہے‘ اور دروازہ بند کر دیا ہے‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں میرے لئے مسخر کر دے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کہ تم لوگ ہمارے ساتھ اٹھو‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے‘ پھر آپ دروازے پر آئے‘ آپ نے فرمایا: دروازہ کھولو ! وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہوا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دروازہ کھولو‘ اس نے دروازہ کھولا تو دو اونٹوں میں سے ایک دروازے کے قریب موجود تھا‘ جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے سامنے سجدہ کیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی ایسی چیز لے کر آؤ‘ جس کے ذریعے میں اس کے سر کو باندھ دوں اور اسے تمہارے قابو میں دے دوں‘ وہ سخت لگام لے کر آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سر کو باندھا اور اس کو قابو میں کر لیا‘ پھرآپ باغ کے ایک کونے میں تشریف لے گئے‘ جہاں دوسرا اونٹ موجود تھا‘ جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ بھی سجدےمیں چلا گیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: تم میرے پاس کوئی چیز لے کر آؤ‘ جس کے ذریعے میں اس کے سر کو باندھ دوں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سر کو باندھ دیا اور اسے اس شخص کے قابو میں دے دیا‘ پھر آپ نے فرمایا: تم جاؤ‘ یہ دونوں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے اس صورت حال کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی:یہ دو اونٹ جو عقل نہیں رکھتے ہیں‘ انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ہے‘ کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میں کسی کو یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے‘ اگر میں نے کسی کو یہ اجازت دینی ہوتی کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں نے عورت کو یہ ہدایت کرنی تھی کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابو عزه دباغ ہے‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے‘ اس کا نام حکم بن طہمان ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14155
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے تین ایسی چیز یں دیکھی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھی ہیں اور نہ میرے بعد کوئی دیکھے گا‘ میں آپ کے ساتھ سفر پر جا رہا تھا‘ راستے میں کسی جگہ ہم پہنچے تو ہمارا گزر‘ ایک بیٹھی ہوئی خاتون کے پاس سے ہوا‘ جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی موجود تھا‘ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس بچے کو بلا لاحق ہو گئی ہے‘ اور ہمیں اس کی وجہ سے آزمائش کا سامنا ہے‘ اسے دن میں کئی مرتبہ دورہ پڑتا ہے مجھے نہیں پتہ کتنی مرتبہ پڑتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مجھے پکڑاؤ اس عورت نے اس بچے کو اٹھا کر آپ کی طرف بڑھایا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے اور اپنے پالان کے درمیانی حصے میں رکھا‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں تین مرتبہ پھونک ماری اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے میں اللہ کا بندہ ہوں‘ اے اللہ کے دشمن دفع ہو جاؤ‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بچہ اس عورت کو پکڑایا اور فرمایا: واپسی پر ہم سے اسی جگہ ملنا اور ہمیں بتانا کہ اس کا کیا حال ہے؟ راوی کہتے ہیں: ہم وہاں سے روانہ ہو گئے‘ جب ہم واپس آئے‘ تو ہم نے اس خاتون کو اسی جگہ پایا‘ اس کے پاس تین بکریاں تھیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارے بچے کا کیا حال ہے؟ اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے‘ اس کے بعد سے لے کر اب تک ہمیں اس کے حوالے سے کوئی چیز محسوس نہیں ہوئی‘ آپ یہ بکریاں قبول کریں‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: تم اترو اور اس سے ایک بکری لے لو اور باقی واپس کر دو۔راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھلے میدان کی طرف نکلا‘ یہاں تک کہ جب تک ہم اس جگہ کے قریب آئے جہاں قضائے حاجت کی جاتی ہے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس بات کا جائزہ لو کہ کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے‘ جو میرے لئے پردہ بن جائے۔ میں نے عرض کی: مجھے تو کوئی ایسی چیز نظر نہیں آ رہی‘ جو آپ کے لئے پردہ بن جائے‘ البتہ ایک درخت ہے جس کے بارے میں میر ایہ خیال ہے کہ وہ آپ کے لئے رکاوٹ بن سکتا ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : و ہ تقریباً کتنا بڑا ہے؟ میں نے جواب دیا: وہ ایک درخت ہے‘ اور اس کی مانند ایک اور درخت ہے (راوی کوشک ہے‘ شاید یہ الفاظ ہیں :) اس کے قریب ایک اور درخت ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور انہیں یہ کہو کہ اللہ کے رسول تم دونوں کو یہ حکم دے رہیں کہ تم دونوں اللہ کے اذن کے تحت اکٹھے ہو جاؤ‘ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں اکٹھے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں قضائے حاجت کی‘ پھر آپ واپس تشریف لائے‘ آپ نے فرمایا: تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دےرہے ہیں کہ تم دونوں میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر واپس چلا جائے تو وہ واپس چلے گئے۔راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا‘ اسی دوران ایک اونٹ آیا اور اس نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنی گردن ڈال دی‘ پھر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس بات کا جائزو لو کہ یہ کس کا اونٹ ہے؟ اس کا کوئی مخصوص معاملہ لگتا ہے‘ میں اس اونٹ کے مالک کو تلاش کرنے کے لئے نکلا‘ تو میں نے اسے پایا کہ وہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا‘ میں اسے بلا کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا معاملہ ہے؟ ہم ایسے کام میں استعمال کرتے رہے ہیں اور اس پر پانی لاد کے لاتے رہے ہیں‘ یہاں تک کہ یہ پانی لانے کے قابل نہیں رہا تو کل ہم نے یہ طے کیا کہ ہم اسے قربان کر دیتے ہیں اور اس کا گوشت تقسیم کر لیتے ہیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو! اسے مجھے ہبہ کر دو‘ یا یہ مجھے فروخت کر دو‘ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ آپ کا ہوا۔راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر صدقہ کا مخصوص نشان لگوایا اور اسے بجھوا دیا۔
يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14156
حضرت یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ایک رایت میں یہ الفاظ ہیں: وہ بیان کرتے ہیں: ’’میرا نہیں خیال کہ کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے وہ چیز دیکھی ہو گی‘ جو میں نے دیکھی ہے‘ کسی نے کم ہی دیکھی ہو گی۔۔۔۔۔۔اس کے بعد راوی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے‘ تاہم انہوں نے یہ روایت نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کے مالک سے کہا: تمہارے اونٹ کا کیا معاملہ ہے کہ وہ تمہاری شکایت کر رہا ہے‘ اس کا کہنا ہے کہ ہم اس پر پانی لاد کے لاتے رہےہو‘ یہاں تک کہ جب اس اونٹ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے‘ تو اب تم اسے قربان کرنے کا ارداہ رکھتے ہو‘ اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو ان کے ہمراہ مبعوث کیا ہے‘ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ میں نے یہی ارادہ کیا تھا اور اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے‘ اب میں ایسا نہیں کروں گا۔
يعلى ← وَفِي رِوَايَةٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14157
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: پھر ہم روانہ ہوئے‘ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے‘ تو ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کر دیا‘ پھر وہ واپس اپنی جگہ پر چلا گیا‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے‘ تو میں نے آپ کے سامنے یہ ذکر کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس درخت نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی تھی کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرے تو پروردگار نے اسے اجازت دیدی۔یہ روایت امام احمدنے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے‘ امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے‘ امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14158
امام طبرانی نے‘ اپنی ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک اونٹ گزرا‘ جس نے اپنی گردن جھکائی ہوئی تھی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے مالک کو میرے پاس لے کر آؤ!وہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہہ رہی کہ میں ان کے ہاں پیدا ہوا‘ یہ لوگ مجھے کام میں استعمال کرتے رہے‘ یہاں تک کہ جب میں بوڑھا ہو گیا ہوں‘ تو انہوں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ یہ مجھے قربان کر دیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہاں موجود‘ ہر چیز یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں‘ صرف کافر (راوی کو شک ہے‘ شاید یہ الفاظ ہیں:) صرف فاسق جنات اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے‘‘۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14159
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی‘ اس کے ساتھ اس کا بچہ تھا‘ جسے جنون کی شکایت تھی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے دشمن ! تم نقل جاؤ‘ میں اللہ کا رسول ہوں‘ راوی کہتے ہیں: تو وہ بچہ تندرست ہو گیا‘ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودو دنبے تحفے کے طور پر دیے‘ تھوڑا سا گھی اور تھوڑا سا پنیر دیا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’تم پنیر اور گھی لے لو! اور دونوں میں سے ایک لے لو‘ اور دوسرا سے واپس کر دو‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14160
اسی سند کے ساتھ‘ حضرت مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے‘ وہ بیان کرتے ہیں: ’’میں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا‘ آپ نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا‘ آپ نے مجھ سے فرمایا: تم ان دو چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو: کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ‘ میں ان دو درختوں کے پاس آیا‘ میں نے ان دونوں سے یہ بات کی تو ان میں سے ایک دوسرے کی طرف بڑھ گیا اور وہ دونوں اکٹھے ہو گئے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے‘ آپ نے ان دونوں کی اوٹ میں قضائے حاجت کی‘ پھر ان دونوں (درختوں میں) ہر ایک وائیں اپنی جگہ پر چلا گیا‘‘۔یہ روایت امام احمد نے بھی نقل کی ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14161
حضرت یعلی بن سیابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا‘ آپ نے قضائے حاجت کر کا ارادہ کیا‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے دو چھوٹے درختوں کو حکم و یا تو ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مل گیا‘ پھر آپ نے ان دونوں کو حکم دیا‘ تو وہ دونوں اپنے اگنے کی جگہ واپس چلے گئے۔اسی طرح ایک اونٹ آیا اور اس نے اپنی گردن زمین پر رکھ دی‘ وہ آوازیں نکالنے لگا اور رونے لگا‘ یہاں تک کہ اس کے اردگرد کی جگہ تر ہو گئی‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ اس کا یہ کہنا ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مالک کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا: کیا تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کرتے ہو؟ اس نےعرض کی: یا رسول اللہ! میرے ہاں کوئی ایسا مال نہیں ہے‘ جو میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو‘ اس نے عرض کی : یہ ضروری ہے‘ یا رسول اللہ! کہ میں اس مال کا احترام کروں۔(راوی بیان کرتے ہیں:) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے‘ آپ اس کے پاس تشریف لائے‘اس قبر والے فردکو عذاب ہو رہا تھا‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے (بظاہر) کسی بڑےگناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شاخ کے بارے میں حکم دیا‘ وہ اس کی قبر پر رکھ دی گئی‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے‘ جب تک یہ تر رہے گی‘ (اس وقت تک) اس شخص کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس تشریف لائے۔۔۔‘‘۔اس روایت کی سند حسن ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14162
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے‘ ایک اونٹ آیا اور وہ آپ کے سامنے سجدے میں چلا گیا‘ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں نے عورت کو حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے‘ امام ترمذی نے اس کا آخری حصہ نقل کیا ہے‘ اس روایت کی سند حسن ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14163
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر سے آ رہے تھے‘ یہاں تک کہ بنو نجار کے ایک باغ تک پہنچے‘ اس میں ایک اونٹ موجود تھا‘ اور کوئی شخص اس باغ میں داخل ہوتا تھا‘ تو وہ اونٹ اس پر حملہ کر دیتا تھا‘ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا‘ تو آپ اس باغ میں آئے آپ نے اونٹ کو بلایا تو وہ آ گیا اس نے اپنے ہونٹ زمین پر رکھے ہوئے تھے‘ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا‘ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگام لے کر آؤ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے لگام ڈالی‘ اور اسے اس کے مالک کے حوالے کیا‘ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’آسمان اور زمین کے درمیان موجود‘ ہر چیز‘ یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں‘ صرف نافرمان جنات اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے‘‘۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14164
حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے‘ جب ہم واقم کی پتھریلی زمین پر پہنچے‘ تو ایک دیہاتی عورت اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر سامنے آئی‘ وہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی‘ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے‘ اس پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرےقریب کرو‘ اس عورت نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا منہ کھولو اس عورت نے اس کا منہ کھولا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکے کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے دشمن ! دفع ہو جاؤ! میں اللہ کا رسول ہوں‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فر مائی‘ پھر آپ نے فرمایا: اے عورت تم اپنے بیٹے کو سنبھا لو‘ اب اس پر کچھ نہیں ہے‘ اور پہلے جو مصیبت اسے لاحق ہوتی تھی‘ اب دوبارہ اس کے پاس نہیں آئے گی۔راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس کے بعد ہم نے کھلے صحراء میں ایک جگہ پر پڑاؤ کیا‘ وہاں کوئی درخت نہیں تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اے جابر! تم جاؤ اور ہمارے لئے کوئی جگہ تلاش کرو‘ یعنی ایسی جگہ جہاں قضائے حاجت کیا جا سکے‘ راوی کہتے ہیں: میں گیا‘ مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی‘ صرف دو درخت نظر آئے‘ جو ایک دوسرے سے دور تھے‘ لیکن اگر وہ دونوں اکٹھے ہو جاتے تو وہ پردہ بن سکتے تھے‘ میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے دو درخت ملے ہیں‘ جو ایک دوسرے سے الگ ہیں‘ اگر وہ دونوں اکٹھے ہوتے تو پھر وہ دونوں آپ کے لئے پردہ کر سکتے تھے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو: کہ اللہ کے رسول تمہیں یہ کہہ رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ! میں وہاں سے نکلا‘ میں نے ان دونوں سے یہ کہا: تو وہ دونوں اکٹھے ہو گئے‘ یہاں تک کہ وہ دونوں یوں لگ رہے تھے‘ جیسے وہ جڑ سے نکلے ہوں‘ میں پھر واپس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے‘ آپ نے قضا حاجت کی‘ پھر آپ واپس تشریف لائے‘ آپ نے فرمایا تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں سے یہ کہو: کہ اللہ کے رسول تم دونوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ تم دونوں اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ! تو وہ دونوں واپس چلے گئے۔راوی کہتے ہیں: ہم نے بنو محارب کی ایک وادی میں پڑاؤ کیا‘ بنو محارب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے سامنے آیا‘ اس کا نام غورث بن حارث تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلوار لٹکائی ہوئی تھی‘ اس نے کہا: اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! پنی یہ تلوار تو مجھے دکھائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تلوار نکالی اور وہ اسے پکڑا دی‘ اس نے اس تلوار کو لہرایا اسے ایک نظر دیکھا‘ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور بولا : اے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا‘ توان کے ہاتھ پر کپکپی طاری ہو گئی‘ یہاں تک کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تلوار پکڑی اور فرمایا: اے غورث! تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: میرے والد آپ پر قربان ہوں‘ ایسا کوئی نہیں ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! غورث اور اس کی قوم کے حوالے سے ہماری کفایت کر دے۔راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم واپس آ رہے تھے‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص پرندے کا گھونسلا اٹھا کے آیا جس میں پرندے کے بچے موجود تھے‘ اور اس کے ماں باپ اس شخص کے پیچھے آ رہے تھے‘ وہ دونوں (پرندے) اس شخص کے ہاتھ پرآ کر بیٹھ گئے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ موجود افراد کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کے بارے میں ان دو پرندوں کے طرزِ عمل پر کیا تم حیران نہیں ہو رہے؟ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘ جتنے یہ پرندے اپنے بچوں پر رحم کرنے والے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جب ہم واپس آ رہے تھے اور واقم کی پتھریلی سر زمین پر پہنچے تو ہمارے سامنے وہی دیہاتی عورت آ گئی جو اپنے بیٹے کو لے کر آئی تھی‘ اس کے پاس ایک مشکیزہ تھا‘ جو دودھ کا تھا اور ایک بکری تھی‘ وہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے کے طور پر پیش کی‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارے بیٹے کا کیا حال ہے؟ اسے جو تکلیف لاحق ہوتی تھی‘ کیا پھر کوئی تکلیف لاحق ہوئی‘ اس عورت نے جواب دیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے‘ جو چیز اسے پہلے لاحق ہوتی تھی‘ اس میں سے کچھ بھی اسے دوبارہ لاحق نہیں ہوا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کا تحفہ قبول کر لیا۔راوی کہتے ہیں: ہم آ رہے تھے‘ جب ہم ’’حرہ‘‘ کے مقام پر پہنچے‘ تو ایک اونٹ آیا جو چلتا ہوا آ رہا تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیاده بہتر جانتے ہیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ میرے پاس آیا ہے‘ اور اپنے مالک کے خلاف مجھے سے شکایت کر رہا ہے‘ اس کا یہ کہنا ہے کہ اس کا مالیک کئی سال تک اس پر کھیتی باڑی کرتا رہا (یعنی پانی لادنے کے لئے استعمال کرتا رہا) یہاں تک کہ جب یہ خارش زدہ ہو گیا‘ کمزور ہو گیا اور بوڑھا ہو گیا‘ تو اس کے مالک نے یہ ارادہ کیا کہ اسے ذبح کر دے‘ اے جابر! تم اس کے مالک کے پاس جاؤ اور اسے لے کر آؤ‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس کے مالک کو نہیں پہچانتا ہوں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ تمہاری رہنمائی کر دے گا‘ تو وہ اونٹ تیزی سے چلتا ہوا‘ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آگے چلنے لگا‘ یہاں تک کہ وہ بنو خطمہ کی محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا‘ میں نے کہا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا:یہ فلاں بن فلاں کا اونٹ ہے‘ میں اس کے پاس گیا اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ‘ وہ شخص میرے ساتھ نکلا‘ یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہارے اونٹ نے تمہارے خلاف شکایت کی ہے‘ اس کا یہ کہنا ہے تم ایک طویل عرصے تک اس پرکھیتی باڑی کرتے رہے ہو‘ یہاں تک کہ جب یہ بوڑھا اور کمزور ہو گیا‘ تو تم نے اسے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا‘ اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے‘ ایسا ہی ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے مجھے فروخت کر دو! اس نے عرض کیا ٹھیک ہے یا رسول اللہ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وہ اونٹ خرید لیا اور پھر اسے ایک درخت میں سائبہ کر دیا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں :صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی عبرالحکیم بن سفیان ہے‘ ابو حاتم نے اس کا ذکر کیا ہے‘ کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14165
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: مکہ کی طرف ایک سفر میں‘ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے‘ تو آپ اتنی دور چلے جاتے تھے کہ کوئی آپ کو نہ دیکھ سکے‘ راوی کہتے ہیں: دو درختوں کو دیکھا‘ جو ایک دوسرے سے دور تھے‘ تو آپ نے فرمایا: اے ابن مسعود! ان دو درختوں کے پاس جاؤاور ان دونوں سے یہ کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ تم دونوں اکٹھے ہو جاؤ‘ تا کہ وہ تمہاری اوٹ میں ہو جائیں اور ان دو میں سے ایک چلتاا ہوا‘ دوسرے کے پاس آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت کی‘ پھر وہ دونوں درخت اپنی جگہ واپس چلے گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے‘ یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کی گلیوں کے پاس پہنچے‘ تو ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدے میں چلا گیا‘ پھر وہ آپ کے سامنے کھڑا ہوا‘ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: فلاں شخص ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بلا کے لاؤ‘ اسے لایا گیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: یہ تمہاری شکایت کر رہا ہے‘ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس اونٹ پر ہم پانی لاد کر لاتے رہے ہیں‘ بیسں سال تک ہم ایسا کرتے رہے ہیں‘ اب ہم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کیا ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اس نے یہی شکایت کی ہے‘ تم اسے برا بدلہ دے رہے ہو‘ تم بیسں سال تک اسے کام میں استعمال کرتے رہے‘ یہاں تک کہ جب اس کی ہڈیاں کمزور ہو گئیں‘ اس کی جلد کمزور ہو گئی‘ تو تم نے اسے قربان کرنے کا ارادہ کر لیا‘ تم اسے مجھے فروخت کر دو !اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ آپ کا ہوا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا‘ تو اسے اونٹوں کی طرف بھیج دیا گیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ! اس اونٹ نے آپ کو سجدہ کیا ہے‘ تو ہم تو سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار ہیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ کوئی ایک‘ دوسرے کو سجدہ کرے‘ اگر کسی نے کسی دوسرے کو سجدہ کرنا ہوتا تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ غزوۂ حنین کا واقعہ ہے۔ اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:’’پھر لوگوں کو شدید پیاس لاحق ہو گئی‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ! میرے لئے پانی تلاش کرو‘ تم مجھے ایک برتن میں جو بچا ہوا پانی ملا تھا‘ وہ لے کر میں آپ کے پاس آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے لے کر ایک پیالے میں ڈالا‘ پھر آپ نے اپنادست مبارک اس میں رکھا‘ اور بسم اللہ پڑھی‘ تو آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا‘ لوگوں نے جتنا چاہا پانی پی لیا‘ اور وضو کر لیا۔یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے‘ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے‘ جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے‘ اس روایت کے دونوں طریق کی اسانید ضعیف ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › A chapter on his miracles, may God bless him and grant him peace, in animals, trees, and other things] · Hadith 14166