مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابُ قُدُومِ وَفْدِ الْجِنِّ وَطَاعَتِهِمْ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 14143
14143 - «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ: " لِيَقُمْ مَعِيَ رَجُلٌ مِنْكُمْ، وَلَا يُقُومَنَّ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْغِشِّ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ ". قَالَ: فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً، فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذْ كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ رَأَيْتُ أَسْوِدَةً مُجْتَمِعَةً قَالَ: فَخَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطًّا ثُمَّ قَالَ: " قُمْ هَهُنَا حَتَّى آتِيَكَ ". فَقُمْتُ وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَثُورُونَ إِلَيْهِ. قَالَ: فَسَمَرَ مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلًا طَوِيلًا، حَتَّى جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: " مَا زِلْتَ قَائِمًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ؟ ". قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَقُلْ لِي: قُمْ حَتَّى آتِيَكَ؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: " هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ؟ ". قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَفَتَحْتُ الْإِدَاوَةَ فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ. قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ. قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ثَمَرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ ". قَالَ: ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْهَا. فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي أَدْرَكَهُ شَخْصَانِ مِنْهُمْ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَؤُمَّنَا فِي صَلَاتِنَا، قَالَ: فَصَفَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: " هَؤُلَاءِ جِنُّ نَصِيبِينَ، جَاءُونِي يَخْتَصِمُونَ فِي أُمُورٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ، وَقَدْ سَأَلُونِي الزَّادَ فَزَوَّدْتُهُمْ ". قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: وَهَلْ عِنْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْءٌ تُزَوِّدُهُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: " قَدْ زَوَّدْتُهُمُ الرَّجْعَةَ وَمَا وَجَدُوا مِنْ رَوْثٍ وَجَدُوهُ شَعِيرًا، وَمَا وَجَدُوا مِنْ عَظْمٍ وَجَدُوهُ كَاسِيًا ". قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَنْ يُسْتَطَابَ بِالْعَظْمِ وَالرَّوْثِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ.
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ میں موجود تھے‘ آپ اپنے چند اصحاب کے درمیان موجود تھے‘ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی ایک شخص اٹھ کر میرے ساتھ چلے اور میرے ساتھ کوئی ایساشخص ہرگز نہ جائے‘ جس کے دل میں ذرے کے وزن برابر کھوٹ ہو‘ راوی کہتے ہیں: تو میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا‘ میں نے ایک برتن لے لیا‘ میرا یہ خیال تھا کہ اس میں پانی موجود ہو گا‘ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا‘ یہاں تک کہ ہم مکہ کے بالائی علاقے میں پہنچے‘ تو میں نے وہاں کچھ وجود یکھے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے ایک لکیر لگائی اور پھر فرمایا: تم نے یہاں ٹھہرنا ہے‘ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا‘ تو میں کھڑا ہو گیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے‘ میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات بھر خاصی دیر تک ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے‘ یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے‘ تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا: اے ابن مسعود! تم اس وقت سے کھڑے ہوئے ہو؟ میں نے عرض کی : جی ہاں! کیا آپ نے مجھ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا‘ تم کھڑے رہو‘ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟ میں نے عرض کی : جی ہاں! راوی کہتے ہیں: جب میں نے برتن کو کھولا تو اس میں نبیذ موجود تھی‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں نے تو یہ برتن اس ت لیا تھا کہ میرا خیال تھا کہ اس میں پانی ہو گا‘ لیکن اس میں تو نبیذ موجود ہے‘ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجور پاکیزه چیز ہے‘ اور پانی پاک کرنے والا ہے‘ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وضو کر لیا‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے‘ تو ان میں سے دو افراد آپ کے پاس آئے‘ ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ نماز میں ہماری امامت کریں‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا‘ پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی‘ جب آپ نماز پڑھا کر فارغ ہوئے‘ تو میں نے عرض کی: یا رسول الله ! یہ کون تھے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نصیبین سے تعلق رکھنے والے جنات تھے جو میرے پاس آئے تھے‘ یہ مختلف امور کے بارے میں مقدمہ لے کے آئے تھے‘ جو ان کے درمیان چل رہا تھا‘ انہوں نے مجھ سے زادراہ کے بارے میں دریافت کیا‘ تو (یا انہوں نے مجھ سے زادراه مانگا‘ تو وہ) میں نے انہیں دے دیا‘ راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے؟ جو آپ نے انہیں زادراہ کے طور پر دی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے انہیں زاد راہ میں ہڈی دی ہے‘ اور جو مینگنی انہیں ملے گی‘ وہ دی ہے کہ انہیں وہ جو کی شکل میں ہو گی‘ اور جو ہڈی ملے گی‘ وہ ہڈی گوشت والی ملے گی‘ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (انسانوں کو) اس موقع پر یہ منع کر دیا کہ ہڈی‘ یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کیا جائے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں :یہ روایت امام ابو داؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی ابو زید ہے‘ جوعمرو بن حربیت کا آزاد کردہ غلام ہے‘ اور وہ مجہول ہے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [The door to the arrival of the delegation of the Jinn and their obedience to Him, may God bless him and grant him peace] · Hadith 14143
