مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابُ مُعْجِزَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّعَامِ وَبَرَكَتِهِ فِيهِ] · حديث 14119
14119 - «وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُوعَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - كَانَتْ تَحْتَ مَالِكِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنِّي عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: عِنْدِي شَيْءٌ، وَأَشَارَتْ بِكَفِّهَا. فَقُلْتُ لَهَا: اصْنَعِي وَانْعَمِي. فَأَرْسَلْتُ أَنَسًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: سَارِّهِ فِي أُذُنِهِ وَادْعُهُ. فَلَمَّا أَقْبَلَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " أَرْسَلَكَ أَبُوكَ يَدْعُونَا يَا بُنَيَّ؟ ". قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ: " اذْهَبُوا بِاسْمِ اللَّهِ ". قَالَ: فَأَدْبَرَ أَنَسٌ يَشْتَدُّ حَتَّى أَتَى أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَتَاكَ فِي النَّاسِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْبَابِ عَلَى مُسْتَرَاحِ الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا صَنَعْتَ بِنَا؟ إِنَّمَا عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْجُوعَ فَصَنَعْنَا لَكَ شَيْئًا تَأْكُلُهُ. قَالَ: " ادْخُلْ وَأَبْشِرْ ". قَالَ: فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَمَعَهَا فِي الصَّحْفَةِ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَصْلَحَهَا فَقَالَ: " هَلْ مِنْ؟ ". كَأَنَّهُ يَعْنِي الْأُدْمَ، قَالَ: فَأَتَوْهُ بِعُكَّتِهِمْ فِيهَا شَيْءٌ، أَوْ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ. فَقَالَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، فَأَسْكَبَ مِنْهَا السَّمْنَ ثُمَّ قَالَ: " أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً ". فَأَكَلُوا كُلُّهُمْ فَشَبِعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ: " كُلُوا أَنْتُمْ وَعِيَالُكُمْ ". فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: وَهُمْ زُهَاءُ مِائَةٍ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا‘ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر بھوک کے آثار نظر آئے‘ تو میں سیّدہ اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا‘ راوی کہتے ہیں: وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں‘ یہ پہلے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد مالک کی اہلیہ تھیں (پھر انہوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شادی کر لی تھی) میں نے کہا: اے اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر بھوک کے آثار کا اندازہ ہوا ہے‘ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: میرے پاس تھوڑی سی چیز ہے‘ انہوں نے پنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کر کے کہا تو میں نے ان سے کہا: تم اسے ہی تیار کرو اور اچھی طرح تیار کرنا‘ پھر میں نے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا‘ میں نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کان میں سرگوشی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دے دو جب حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص کوئی بھلائی لے کے آیا ہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: اے ہمارے بیٹے ! کیا تمہارے باپ نے تمہیں بھیجا ہے؟ اور اس نے ہماری دعوت کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اللہ کا نام لے کرچل پڑو‘ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلدی سے چلتے ہوئے حضرت ابو طلحہ کے پاس آئے اور بولے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ لوگوں سمیت آپ کے پاس آ رہے ہیں‘ راوی کہتے ہیں: میری ملاقات دروازے کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ آپ نے ہمارےساتھ کیا کیا ہے‘ مجھے تو آپ کے چہرے پر بھوک کے آثار محسوس ہوئے تھے تو ہم نے تو آپ کے لئے کھانا تیار کیا تھا تاکہ آپ کچھ کھا لیں‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اندر چلو اور خوش خبری حاصل کرو‘ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھانا لیا‘ آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ایک پیالے میں ڈالا‘ پھر آپ اسے ٹھیک کرنے لگے‘ پھر آپ نے در یافت کیا: کیا کچھ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد سالن تھی‘ تو لوگ اپنی کپی لے آئے‘ جس میں تھوڑی سی چیز موجود تھی‘ یا شاید کچھ بھی نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس میں سے گھی نچوڑا‘ پھر آپ نے فرمایا: دس دس آدمیوں کو میرے پاس اندر لاتے رہو‘ وہ سب لوگ کھانا کھاتے رہے‘ اور سیر ہوتے رہے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اضافی ہونے والے کھانے کے بارے فرمایا کہ اسے تم لوگ اور تمہارے عیال کھا لیں‘ تو انہوں نے بھی کھا لیا‘ اور وہ بھی سیر ہو گئے۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:’’ان لوگوں کی تعداد ایک سو کے قریب تھی‘‘ ان دونوں روایات کے رجال’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔
أَبِي طَلْحَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter of his miracle, may God’s prayers and peace be upon him, and his blessing in the meal] · Hadith 14119
