مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابُ مُعْجِزَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَاءِ وَنَبْعِهِ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ] · حديث 14107
14107 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَأَصَابَنَا عَطَشٌ شَدِيدٌ، فَشَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " هَلْ فَضَلَ مَاءٌ فِي إِدَاوَةٍ؟ ". فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِفَضْلَةِ مَاءٍ فِي إِدَاوَةٍ، فَحَفَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً وَوَضَعَ عَلَيْهَا نُطْفَةً، وَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِ الْإِدَاوَةِ: " صُبَّ الْمَاءَ عَلَى كَفِّي وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ". فَفَعَلَ. قَالَ أَبُو لَيْلَى: رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَوِيَ الْقَوْمُ وَسَقُوا رِكَابَهُمْ». وَفِي إِسْنَادِهِ: خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِقَوِيٍّ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَسْرٍ، وَقَدِ كُلَّهُمْ اشْتَهَرَ أَنَّ شُيُوخَهُ ثِقَاتٌ عِنْدَهُ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ وَحَدِيثُ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِمَارَةِ.
عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے‘ ہمیں شدید پیاس لاحق ہو گئی‘ ہم نے اس کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا کسی برتن میں بچا ہوا پانی ہے؟ تو ایک صاحب ایک برتن میں بچا ہوا پانی آپ کے پاس لے کر آئے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین میں گڑھا کھودا آپ نے اس پر دستر خوان رکھا (یا چمڑ ارکھا) پھر آپ نے اپنی ہتھیلی زمین پر رکھی‘ اور پھر برتن والے شخص سے فرمایا: الله کا نام لے کر‘ تم میری ہتھیلی پر پانی بہاؤ! اس نے ایسا ہی کیا۔حضرت ابو لیلیٰ کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ پڑا‘ یہاں کہ سب لوگ سیراب ہو گئے‘ اور انہوں نے اپنی سواریوں کو بھی پانی پلا دیا۔اس کی سند میں ایک راوی خالد بن زید اشعری ہے‘ جسے امام ابو زرعہ‘ ابو داؤد اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے‘ ابو حاتم کے ہیں: یہ قوی نہیں ہے‘ اس کی حدیث کونوٹ کیا جائے گا‘ امام احمد نے اس سے روایت نقل کی ہے‘ اور یہ بات مشہور ہے: کہ امام احمد تمام اساتذہ ان کے نزدیک ثقہ ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت زید بن حارث صدائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے‘ اور حضرت حبان بن بح صدائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے‘ جو حکومت کے ناپسندیدہ ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے۔
أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter of his miracles, may God’s prayers and peace be upon him, in the water, and its spring from among his fingers] · Hadith 14107
