مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابُ إِخْبَارِ الذِّئْبِ بِنُبُوَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 14083
14083 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ. قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَزْفَرَ وَقَالَ: عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ فَانْتَزَعْتَهُ مِنِّي؟ فَقَالَ الرَّاعِي: بِاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ!! قَالَ الذِّئْبُ: أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ. وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا فَجَاءَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَبَّرَهُ وَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّهَا أَمَارَاتٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بھیڑیا بکریوں کے چرواہے کے پاس آیا‘ اور اس نے اس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے لی‘ چرواہا اس کے پیچھے گیا‘ اس نے اس بھیٹریے سے اس بکری کو چھڑا لیا‘ راوی کہتے ہیں تو وہ بھیٹریا ایک ٹیلے پر چڑھا‘ اس نے اپنی دُم دونوں ٹانگوں کے درمیان کی اور بولا : تم ایک ایسے رزق کی طرف آ ئے‘ جسے اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا‘ اور تم نے اس کو مجھ سے چھین لیا‘ تو اس چرواہے نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج کے دن کی طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی کہ ایک بھیڑیا بات چیت کر رہا ہے‘ اس بھیڑیے نے کہا: اس سے بھی زیادہ حیران کن وہ صاحب ہیں‘ جو دو طرف پتھریلی زمین کے درمیان موجود کھجوروں کے درختوں کے درمیان رہتے ہیں‘ اور وہ گزرے ہوئے زمانے کے بارے میں‘ اور تمہارے بعد جو کچھ ہو گا‘ اس کے بارے میں تمہیں بتاتے ہیں‘ وہ شخص یہودی تھا‘ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ اور اس نے اسلام قبول کر لیا‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کی تصدیق کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشادفرمائی:’’قیامت سے پہلے آنے والی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے‘ عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص جائے گا اور جب وہ واپس آئے گا‘ تو اس کا جوتا‘ یا اس کوڑا بتائیں گے کہ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا کیا؟‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔ یہ روایت امام احمدنے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of telling the wolf about his prophethood, may God bless him and grant him peace] · Hadith 14083
