مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابٌ فِي سِرِّهِ وَعَلَانِيَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 14059
14059 - عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ: «دَخَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً. ثُمَّ نَدِمَتْ قَالَتْ: أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: " أَحْسَنْتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
یحییٰ بن جزار بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ اصحاب سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ انہوں نے دریافت کیا: اے اُم المومنین! آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پوشیدہ معاملات کے بارے میں بتائیے‘ تو سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پوشیدہ اور اعلانیہ معاملے ایک جیسے ہوتے ہیں‘ پھر وہ ندامت کا شکار ہو گئیں‘ انہوں نے سوچا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پوشیدہ معاملے کو ظاہر کر دیا ہے‘ وہ بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ اور انہوں نے یہ کہا ہے: یہ یحییٰ کے حوالے سے سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے منقول ہے‘ ان دونوں روایات کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
أُمِّ سَلَمَةَ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. ← يَحْيَى ← أَحْسَنْتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ← فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرَتْهُ ← أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ ← كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً. ثُمَّ نَدِمَتْ ← سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ ← يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا ← «دَخَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter on its Secret and Publicity, may God bless him and grant him peace] · Hadith 14059
